92۔ حضرت ابن عباس صسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بیت الخلاء میں داخل ہوئے تو میں نے آپ کے لیے پانی رکھ دیا۔ جب باہر نکلے تو فرمایا، یہ کس نے رکھا ہے؟ آپ کو بتایا گیا تو آپ نے میرے لیے دعا فرمائی، اے اﷲ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما۔()
93۔ غیب جاننے والے آقا ومولیٰ انے فرمایا، اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر لکھا ہوا ہے کہ حمزہ ص اسدُ اللہ اور اسدُ الرسول ہیں۔ ()
94۔ رسول کریم ﷺکا ارشادِ گرامی ہے، میرے تمام چچاؤں میں سب سے بہتر حمزہ ص ہیں۔ سید الشہداء حضرت حمزہ صہیں۔
95۔ حضرت ابن عباس صسے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فَمِنْھُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ() (یعنی ان میں سے کوئی شہید ہو چکا ہے) سے مراد حضرت حمزہ ص ہیں۔ ()
96۔ حضرت عبداللہ بن مسعود صسے روایت ہے کہ ہم نے رسول کریم ﷺ کوکبھی ایسے آنسو بہاتے نہ دیکھا جیسے حضرت حمزہ صکی شہادت پر آپ کے آنسو بہے۔ آپ ان کے جنازے پر اس قدر روئے کہ آپ کو غش آگیا۔ آپ نے فرمایا، اے حمزہ !اے رسول اﷲ ﷺ کے چچا! اے اللہ کے شیر اور اس کے رسول کے شیر! اے نیکیاں کرنے والے! اے سختیاں جھیلنے والے! اے حمزہ ! اے رسول اللہ اکے روئے انور کو گھلانے والے‘‘۔ ()
97۔حضرت ابو ہریرہ ص سے روایت ہے کہ حضرت جعفرص کو مسکین لوگوں سے محبت تھی، آپ ان کے پاس بیٹھتے اور ان سے گھل مل کر باتیں کیا کرتے اسی وجہ سے رسول اﷲ ﷺ نے ان کی کنیت ابوالمساکین رکھی ہوئی تھی۔ ()
98۔ حضرت ابو ہریرہ صسے یہ روایت بھی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ، میں نے جعفر کو دیکھا کہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑ رہے ہیں۔ ()
99۔ حضرت براء بن عازب ص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت جعفر بن ابی طالبص سے فرمایا، تم صورت وسیرت میں میرے مشابہ ہو۔ ()
100۔ حضرت ابنِ عمرصسے روایت ہے کہ آپ ا جب عبداللہ ابنِ جعفرص کو سلام کرتے تو فرماتے،’’ اے دو پروں یا دو بازؤوں والے کے بیٹے! تم پر سلام ہو‘‘۔ ()
101۔ حضرت عبداللہ بن جعفر ص فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب سفر سے واپس آتے تو ہم آپ سے ملاقات کرتے۔ ایک بار سفر سے واپسی پر میں اور حسن یا حسین آپ سے ملے تو آپ ا نے ہم میں سے ایک کو سواری پر آگے بٹھایا اور دوسرے کو پیچھے یہاں تک کہ ہم مدینہ میں داخل ہوئے۔ ()
102۔ حضرت علی صسے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ومولیٰ نے فرمایا، ہر نبی کو سات نجیب ورفیق یا رقیب دیے گئے جبکہ مجھے چودہ عطا ہوئے۔پوچھا گیا، وہ کون ہیں؟ فرمایا، میں، میرے دونوں بیٹے حسن اور حسین، جعفر، حمزہ،ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، عمار، مقداد، حذیفہ اور عبداللہ بن مسعود۔ ()
103۔ حضرت اسامہ بن زید ص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے اور حضرت حسنص کو پکڑا اور فرمایا، اے اﷲ ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ۔()
104۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول اکرم ا انہیں پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھالیتے اور حضرت حسن بن علیص کو دوسری رانِ مبارک پر۔ پھر یہ کہتے، اے اﷲ ! ان دونوں پر رحم فرما کیونکہ میں بھی ان پر مہربانی کرتا ہوں۔ ()
105۔ حضرت عبداﷲ بن عمر ص سے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ ا نے ایک لشکر روانہ کیا اور حضرت اسامہ بن زیدص کو اس کا سپہ سالار مقرر فرمایا بعض لوگوں نے ان کو امیر بنانے پر نکتہ چینی کی چنانچہ آقا ومولیٰ ا نے فرمایا ،
تم اس کی امارت ہی کو ناپسند نہیں کرتے بلکہ تم تو اس کے باپ کی امارت میں بھی اس سے پہلے نکتہ چینی کر چکے ہو ۔ حالانکہ خدا کی قسم ! وہ امارت کے لائق تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جو مجھے بہت پیارے تھے اور یہ اُن بعد والوں میں سے ہے جو مجھے سب سے زیادہ پیارے ہیں۔ ()
Page 71 of 134

