Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 9 of 134
دنیا کے تمام اولیاء ، ابدال ، غوث اور قطب بھی جمع ہو جائیں تو کسی صحابی کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔

شانِ صحابہ، قرآن کی روشنی میں
1۔ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) ()
’’اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے ، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ، اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ، ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں ، یہی بڑی کامیابی ہے‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں رب تعالیٰ نے اُن صحابہ کی شان بیان فرمائی جنہوں نے اس وقت رسول کریم ﷺ کی دعوت حق قبول کی جبکہ اس دعوت کو قبول کرنا بیشمار مصائب و تکالیف کو دعوت دینا تھا۔ اخلاص و استقلال کے ان پیکروں نے محض رضائے الٰہی کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے، اپنے خونی رشتوں کو فراموش کیا اور حق کی سربلندی کی خاطر اپنی جان تک کی بازی لگادی ۔ رب کریم نے ان نفوسِ قدسیہ اور ان کے متبعین کو بھی یہ اعزاز عطا فرمایا کہ ان سے راضی ہونے کا اعلان فرمادیا ، انہیں جنتی ہونے کی خوشخبری دی اور اسے بہت بڑی کامیابی قرار دیا۔یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی ثسابقین اولین میں سے ہیں ۔
صدرُالافاضل مفتی سید نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ ’’وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ‘‘ (اُن کے پیروکاروں) سے قیامت تک کے وہ ایماندار مراد ہیں جو ایمان و طاعت و نیکی میں انصار و مہاجرین صحابہ کرام کی راہ چلیں‘‘۔ ()
2۔ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰) ()
’’تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے‘‘۔
اس آیت کریمہ سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے البتہ ان صحابہ کرام کو دیگر صحابہ پر فضیلت اور برتری حاصل ہے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کیا اور اس کی راہ میں جہاد کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ان نفوسِ قدسیہ میں بھی حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی ث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
3۔ وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةًؕ-وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ(۴۱)()
’’اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے مظلوم ہو کر، ضرور ہم انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے اور بیشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے، (کاش!) کسی طرح لوگ جانتے‘‘۔
4۔وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ(۷۴) ()
Share:
keyboard_arrow_up