امام حسنص وامام حسین ص صرف صحابی نہیں بلکہ صاحبِ روایت صحابی ہیں۔
امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں، حسین ص نے نبی کریم ﷺ سے حدیث روایت کی ہے۔()
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی گواہی ملاحظہ کیجیے۔ حسین صنے اپنے جد پاک رسول کریم ﷺ سے روایت کی ہے۔()
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے بھی سنن میں امام حسین صسے حدیث پاک روایت کی ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ کے شاگرد امام محمد کے شاگرد امام شافعی ث فرماتے ہیں،
یَااَھْلَ بَیْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ حُبُّکُمْ
فَرْضٌ مِّنَ اللّٰہِ فِی الْقُرْآنِ اَنْزَلَہٗ
’’اے رسول اﷲ ﷺ کے اہلِ بیت! تم سے محبت رکھنا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ، جس کو اُس نے نازل کیا، فرض قرار دیا ہے‘‘۔
یَکْفِیْکُمْ مِّنْ عَظِیْمِ الْقَدْرِ اِنَّکُمْ
مَنْ لَّمْ یُصَلِّ عَلَیْکُمْ لاَ صَلٰوۃَ لَہٗ
’’تمہاری عظمت وشان کے لیے یہی بات کافی ہے کہ جو تم پر درود نہ پڑھے ، اس کی نماز نہیں‘‘۔ ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا،
اِذَا نَحْنُ فَضَّلْنَا عَلِیًّا فَاِنَّنَا
رَوَافِضُ بِالتَّفْضِیْلِ عِنْدَ ذِی الْجَھَلٖ
’’جب ہم نے حضرت علیص کی فضیلت کو بیان کیا تو بیشک ہم فضیلت بیان کرنے کی وجہ سے جاہلوں کے نزدیک رافضی ہو گئے‘‘۔
وَفَضْلُ اَبِیْ بَکْرٍ اِذَامَا ذَکَرْتُہٗ
رُمِیْتُ بِنَصْبٍ عِنْدَ ذِکْرِیْ لِلْفَضْلٖ
’’اور جب ہم سیدنا ابوبکر صکے فضائل بیان کرتے ہیں تو اس وقت ہم پر ناصبی ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے‘‘۔
اِنْ کَانَ رِفْضًا حُبُّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
فَلْیَشْہَدِ الثَّقْلاَنِ اَنِّیْ رَافِضٗ
’’اگر آل محمداسے محبت ہی کا نام رفض ہے (جیسا کہ جاہلوں کا گمان ہے)تو دونوں جہان گواہ رہیں کہ بیشک میں رافضی ہوں‘‘۔
زیرِنظر کتاب حضرت شاہ صاحب دامت برکاتہم القدسیہ نے تالیف فرمائی اورالحمد للہ! مجھ فقیر کو اس کی ترتیب کی سعادت ملی۔ اگر اہلِ علم کوئی غلطی پائیں تو ضرور مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اسے درست کیا جاسکے۔رب تعالیٰ اسے نافعِ خلائق اور ہمارے لیے ذریعۂ نجات بنائے،آمین بجاہِ سید المرسلین۔
کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں، حسین اور حسن پھول
خاکپائے صحابہ واہلبیت
محمد آصف قادری
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم وعلی اٰلہ واصحابہ وازواجہ اجمعین
صحابہ رضی اللہ عنہم کون ہیں؟
صحابی کے لغوی معنی ساتھی کے ہیں جبکہ شریعت میں صحابی اُس خوش نصیب کو کہتے ہیں جس نے ایمان و ہوش کی حالت میں رسو ل کریم ا کا دیدار کیا یا جسے آقا ومولیٰ ا کی صحبت نصیب ہوئی اور پھر ایمان پر اس کا وصال ہوا۔
تمام صحابہ کرام میں سب سے افضل سیدنا صدیق اکبرص ہیں پھر سیدنا فاروق اعظم پھر سیدنا عثمان غنی پھر سیدنا مولیٰ علی پھر بقیہ عشرہ مبشرہ و حضرات حسنین کریمین ، اہل بدر و اُحد ، بیعتِ رضوان والے، بیعتِ عقبہ والے اور سابقین یعنی وہ صحابہ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ، دیگر صحابہ کرامث سے افضل ہیں ۔
تمام صحابہ کرام متقی ، عادل اور جنتی ہیں اور ان کا ذکر ، خیر ہی کے ساتھ کرنا فرض ہے ۔ تمام صحابہ کرام کی تعظیم و توقیر واجب ہے اور کسی بھی صحابی کے ساتھ برا عقیدہ رکھنا بدمذہبی و گمراہی اور جہنم کا مستحق ہونا ہے کیونکہ قرآن و احادیث میں جا بجا صحابہ کرام کے عادل و متقی ہونے کی اور فسق سے محفوظ ہونے کی گواہی موجود ہے ۔
Page 8 of 134

