Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 7 of 134
اگر خدانخواستہ صحابہ کرام لائقِ اعتماد نہ رہیں تو پھر دین کی کسی چیز پر اعتماد ممکن نہ رہے گا کیونکہ آقا ومولیٰ اکے لائے ہوئے دین کی ہر ہر بات ہم تک انہی مقدس نفوس کے ذریعے پہنچی ہے لہٰذا صحابہ کرامث پر عدم اعتماد دراصل دین ہی پر عدم اعتماد ہے۔
قراٰن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے،
’’جیسا ہم نے بھیجا تم میں ایک رسول تم میں سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا اور کتاب اور پختہ علم سکھاتاہے اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا‘‘۔()
اس آیت مقدسہ کے اول مخاطبین صحابہ کرامث ہیں لہٰذااس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺنے صحابہ کرام کو پاک کر دیا اور انہیں کتاب وحکمت سکھائی۔ صحابہ کرام ثایسے پاک ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے۔ یہ بہت بڑا اعزاز ہے جو صحابہ کرامث کو نصیب ہوا کہ قرآن مجید نے دوطرفہ رضامندی کی گواہی دی، رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ ۔()
اب جن مقدس نفوس سے رب تعالیٰ راضی ہونے کا اعلان فرمائے اور کوئی یہ کہے کہ ’’میں ان سے راضی نہیں ہوں‘‘(معاذ اللہ) تو کیا یہ رب تعالیٰ سے بغاوت اور دشمنی نہیں؟ حدیثِ قدسی ہے ، جس نے میرے کسی ولی سے عداوت رکھی ، اُس کے خلاف میرا اعلانِ جنگ ہے۔()
صحابہ کرام ث تو رب تعالیٰ کے ایسے دوست ہیں کہ رب تعالیٰ نے ان سب سے جنت اور مغفرت کا وعدہ بھی فرمایا ہے، وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ- () اس ضمن میں متعدد آیات مبارکہ اس کتاب میں مذکور ہیں۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے الاصابہ کے دیباچہ میں امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے، ’’جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ رسول کریم ﷺکے صحابہ میں سے کسی کی تنقیص کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺبرحق ہیں، قرآن مجید برحق ہے اور جو دین آقا و مولیٰ ا لائے ہیں ، وہ برحق ہے۔ اور یہ سب چیزیں ہم تک صحابہ کرامث نے پہنچائی ہیں(توگویا صحابہ کرامث حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کے گواہ ہیں)۔ اور یہ لوگ ہمارے گواہوں پر جرح وتنقید کر کے کتاب وسنت کو باطل کرنا چاہتے ہیں لہٰذا یہ لوگ خود جرح وتنقید کے لائق ہیں اور یہ بدمذہب اور زندیق ہیں‘‘۔()
حضرت انس صسے روایت ہے کہ آقاومولیٰ انے فرمایا، اللہ تعالیٰ میری امت کے جس شخص سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے دل میں میرے صحابہ کی محبت ڈال دیتا ہے۔ ()
پس حضور ﷺ کی آل ، ازواج، اولاد اور اصحاب ث سے محبت، ان کی تعظیم اور ان کی تعلیمات پر عمل ایمان کی علامات میں سے ہے اور ان سے بغض وعناد، ایمان وعاقبت کی تباہی کا سبب ہے۔سہل بن عبداللہ تستری رحمہ اللہ کا ارشاد ہے،’’ وہ شخص ایمان ہی نہیں لایا جس نے آپ کے اصحاب کی تعظیم نہیں کی‘‘۔
حضور ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے، جب میرے صحابہ کا ذکر ہو رہا ہو تو خاموش رہا کرو یعنی ان کے متعلق اچھی بات کہو ورنہ خاموش رہو۔()
بعض لوگ نہ جانے کیوں صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار سے بغض رکھتے ہیں۔ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ’’ امام حسین صصحابی نہیں تھے کیونکہ صحابی ہونے کے لیے حضور ﷺ کے ساتھ ملاقات کے وقت بالغ ہونا شرط ہے‘‘۔حالانکہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے شرح بخاری میں لکھا ہے کہ بالغ ہونے کی شرط مردود ہے۔امام بخاری، امام احمد اور جمہور محدثین رحمہم اللہکا یہی قول ہے۔()
حافظ ابن کثیررحمہ اللہ امام حسینص کے صحابی ہونے کے متعلق فرماتے ہیں، ’’بیشک وہ مسلمانوں کے سردار اور علماء صحابہ میں سے ہیں‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up