فکلہم معذورون ولھذا اتفق اہل الحق ومن یعتد بہ فی الاجماع علی قبول شہاداتہم وروایاتہم وکمال عدالتہم رضی اللہ عنہم اجمعین۔()
تمام صحابہ کرام کو آپس میں جنگوں کے مسئلہ میں معذور سمجھا گیا ، اسی مسئلہ پر اہلِ حق کا اتفاق ہے اور جن حضرات کا شریعت میں اجماع معتبر ہے وہ بھی اس مسئلہ پر متفق ہیں کہ تمام صحابہ کرام کی گواہیاں اور روایات اور کامل عدالت معتبر ہے۔
اہل علم کی تحقیق سے انحراف کا نتیجہ:
مذکورہ بالا جو اہل علم کی تحقیق پر مبنی بحث پیش کی، جب اس سے انحراف کیا گیا تو کوئی گستاخِ اہل بیت بن گیا اور کوئی گستاخِ صحابہ کرام بن گیا۔
من لم یدخل السفینۃ کالخوارج ھلک مع الھالکین فی اول وھلۃ ومن دخلھا ولم یھتد بنجوم الصحابۃ کالروافض ضل ووقع فی ظلمات لیس بخارج منہا۔()
جو اہل بیت کی محبت کی کشتی پر سوارنہ ہوا خارجیوں کی طرح تو وہ ابتدائی مرحلہ میں ہی ہلاک ہو گیا، اور جو کشتی میں تو سوار ہوگیا لیکن محبتِ صحابہ کرام سے ہدایت حاصل نہ کی جو ستاروں کی طرح ہیں تو وہ رافضیوں کی طرح گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹکتا ہی رہے گا، اسے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آئے گی۔
اس بھنور سے نکلنے کی راہ:
رواہ احمد عن انس مرفوعاً ان مثل العلماء فی الارض کمثل النجوم فی السماء یھتدی بھا فی ظلمات البر والبحر فاذا انطمست النجوم اوشک ان تضل الھداۃ ۔ ()
حضرت انس صنے مرفوع حدیث بیان کی( یعنی نبی کریم ﷺ نے فرمایا) کہ علماء زمین میں اس طرح ہیں جس طرح آسمان میں ستارے ہیں، ستاروں سے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں ہدایت حاصل کی جاتی ہے، اگر ستارے بے نور ہوجائیں تو راہنما بھٹک جائیں۔
حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ علماء کرام بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لاتے ہیں۔ ان اصحابِ علم میں سے ہادیٔ برحق، واصل الی الحق، محب الحق، (پیرطریقت ، راہبر شریعت) حضرت علامہ شاہ تراب الحق قادری مدظلہ العالی بھی ہیں جو اپنے زہد وتقوی اور تحقیق بھری حسین تقاریر سے تو پہلے ہی لوگوں کی راہنمائی فرمارہے تھے، لیکن اب آپ نے تھوڑے سے عرصہ میں بہت بڑا تصنیفی کام کیا ہے۔
اب زیرِ نظر کتاب ’’فضائلِ صحابہ واہلبیت‘‘ میں آپ نے صحابہ کرام کی شان اور اہل بیت کی شان قرآن پاک اور احادیث مبارکہ سے تصنیف فرما کر بھٹکی ہوئی دنیا کو راہ راست پر لانے کی عظیم کوشش فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، اور قارئین کرام کو اس کتاب سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ان کی عاقبت سنور جائے۔آمین ثم آمین۔
خاکپائے اولیاء کرام وعلماء کرام،
عبدالرزاق بھترالوی حطاروی
پیش لفظ
الحمد للہ الواحد الغفار والصلوۃ والسلام علی النبی المختار وعلی اٰلہ الاطہار واصحابہ الاخیار
تمام تعریفیں اللہ گ کے لیے جس نے ہمیں اپنے محبوب رسول سیدنا محمد مصطفی اکے امتی ہونے کا اعزاز بخشا اور ہمیں اہلبیت اطہارث کی محبت کی کشتی عطا فرمائی تاکہ اس میں سوار ہو کر ہم دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت کے سمندر میں ڈوبنے سے محفوظ رہیں پھر ہماری راہبری کے لیے صحابہ کرام ث کو آسمانِ ہدایت کے ستارے بنا دیاتاکہ ہم معصیت وگمراہی کے اندھیروں میں بھٹکنے کی بجائے ان ستاروں کی راہنمائی سے منزلِ مقصود پا لیں۔
اُن کے مولیٰ کے اُن پر کروڑوں درود
اُن کے اصحاب و عترت پہ لاکھوں سلام
سرکارِ دوعالم انے اپنی تیئس(۲۳)سالہ تبلیغی جدوجہد ا ور تربیتی کاوشوں کے بعد صحابہ کرامث کی صورت میں ایک ایسی جماعت تیار فرمادی جو بعد میں آنے والی امت کے لیے راہنما اور ہادی بنے اور ان مقدس نفوس پر ہمیشہ اعتماد کیا جائے۔
Page 6 of 134

