Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 5 of 134
قال ابومنصور البغدادی اصحابنا مجمعون علی ان افضلہم الخلفاء الاربعۃ علی الترتیب المذکور ثم تمام العشرۃ ثم اہل بدر ثم احد ثم بیعۃ الرضوان وممن لہ مزیۃ اہل العقبتین من الانصار وکذلک السابقون الاولون وہم من صلی الی القبلتین۔()
ابومنصور بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ہمارے اصحاب کا اس مسئلہ میں اجماع ہے کہ خلفائے راشدین کی جو ترتیب خلافت میں پائی گئی ہے وہی ان کے درجات میں بھی ہے۔ سب سے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکرص ہیں وہی سب سے افضل ہیں۔ اور دوسرے خلیفہ حضرت عمرص ہیں اور اس لحاظ پر دوسرا مرتبہ آپ کا ہے۔اور تیسرے مرتبہ پر خلیفہ حضرت عثمان ص ہیں، اس لحاظ پر تیسرا مرتبہ آپ کو حاصل ہے۔ اور چوتھے خلیفہ حضرت علیص ہیں، اس لحاظ پر آپ کا درجہ چوتھا ہے۔
پھر مرتبہ عشرہ مبشرہ کو حاصل ہے پھر بدر میں شریک صحابہ کرام کا مقام ہے پھر درجہ غزوہ احد میں شریک حضرات کا ہے پھر بیعتِ رضوان والوں کا ہے پھر وہ انصار جنہوں نے عقبہ اولیٰ اور ثانیہ پر بیعت کی پھر السابقون الاولون ، یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز ادا کی۔
واما علیص فخلافتہ صحیحۃ بالاجماع وکان ہو الخلیفۃ فی وقتہ لاخلافۃ لغیرہ۔
حضرت علی صکی خلافت صحیح ہے اس مسئلہ پر اہل سنت وجماعت کا اجماع ہے۔جب آپ خلیفہ تھے اس وقت کوئی اور خلیفہ نہیں تھا۔()
واما معاویۃ ص فھو من العدول والفضلاء والصحابۃ النجباء ۔()
حضرت امیر معاویہص عادل اور فضلاء اور عظیم المرتبت صحابہ کرام سے ہیں۔
صحابہ کرام کے اختلافات پر ارشادِ مصطفوی:
وعن عمر بن الخطابص قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول سألت ربی عن اختلاف اصحابی من بعدی فاوحی الی یا محمد ان اصحابک عندی بمنزلۃ النجوم فی السماء بعضہا اقوی من بعض ولکل نور فمن اخذ بشیٔ مما ھم علیہ من اختلافہم فہو عندی علی ھدی ۔()
حضرت عمر بن خطاب صفرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے رب سے میرے بعد میرے صحابہ میں واقع ہونے والے اختلافات کے بارے میں سوال کیا تو رب تعالیٰ نے میری طرف وحی کی کہ اے محمد! بیشک تمہارے صحابہ میرے نزدیک اس طرح ہیں جس طرح آسمان پر ستارے ہیں۔ جس طرح ستارے بعض بعض پر قوی ہیں، ایسے ہی تمہارے صحابہ کے بعض کے بعض پر درجات بلند ہونگے، ہر ایک کو نور حاصل ہو گا۔ جس شخص نے ان میں سے کسی کے قول پر بھی عمل کیا تو میرے نزدیک ہدایت پر ہو گا۔
صحابہ کرام کے اختلافات میں صحابہ کی تین قسمیں ہو گئیں:
جب صحابہ کرام ث کی آپس میں جنگ ہوئی تو،
فقسم ظہر لہم بالاجتہاد وان الحق فی ھذا الطرف وان مخالفہ باغ فوجب علیہم نصرتہ وقتال الباغی علیہ فیما اعتقدوہ ففعلوا ذلک ولم یکن یحل لمن ھذہ صفۃ التأخر عن مساعدتہ امام العدل فی قتال البغاۃ فی اعتقادہ وقسم عکس ھؤلاء ظہر لہم بالاجتہاد وان الحق فی الطرف الآخر فوجب علیہم مساعدتہ وقتال الباغی علیہ، وقسم ثالث اشبھت علیہم القضیہ وتحیروا فیہا ولم یظہر لہم ترجیح احد الطرفین فاعتزلوا الفریقین وکان ھذا الاعتزال ہو الواجب فی حقہم۔()
صحابہ کرام کی جنگوں میں بعض صحابہ کرام نے ایک فریق کو حق پر سمجھا اور دوسرے کو ناحق۔ ان پر واجب ہو گیا کہ وہ حق کا ساتھ دیں، وہ پہلے فریق کے ساتھ ہو گئے۔ اور بعض حضرات نے دوسرے فریق کو حق پر سمجھا اور پہلے فریق کو ناحق سمجھا، ان پر واجب ہو گیا کہ وہ دوسرے فریق کا ساتھ دیں اور پہلے سے دور رہیں۔ اور بعض لوگوں پر مشتبہ رہا ، وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ حق پر کون اور ناحق کون ہیں، ان پر واجب ہو گیا کہ وہ کسی ایک کا بھی ساتھ نہ دیں کیونکہ ناحق کا ساتھ دینا ظلم ہے۔
Share:
keyboard_arrow_up