Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 4 of 134
وحسنہ الصغانی فی کشف الحجاب شبہ الدنیا بما فیہا من الکفر والضلالات والبدع والجہالات والاھواء الزائغۃ ببحر لجی یغشاہ موج من فوقہ موج من فوقہ سحاب ظلمات بعضھا فوق بعد وقد احاط باکنافہ واطرفہ الارض کلھا ولیس منہ خلاص ولامناص الا تلک السفینۃ وھی محبۃ اہل بیت الرسول وما احسن انضمامہ مع قولہ مثل اصحابی مثل النجوم من اقتدی بشیٔ منہ اھتدی۔()
علامہ صغانی رحمہ اللہ نے کشف الحجاب میں بہت خوب بیان کیا ہے کہ دنیا اور اس میں پائی جانے والی گمراہیاں اور کفر، بدعات اور جہالتیں اور غلط قسم کی خواہشات کو سمندر سے تشبیہ دی گئی ہے کہ سمندر میں بہت زیادہ طغیانی ہو، موجوں پر موجیں ہوں، اور سخت سیاہ بادل بھی چھائے ہوئے ہوں جنہوں نے زمین کے کناروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہو تو اس حالت میں بغیر کشتی اور ستاروں کی راہنمائی کے نجات ممکن نہیں۔ اسی طرح گمراہی سے بچنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت کی محبت کی کشتی پر سوار ہونا ضروری ہے، اس کے بغیر کفروجہالت ، گمراہی وبدعات سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ اور صحابہ کرام کو رسول اﷲ ﷺ نے ستاروں کی طرح فرمایا ہے۔
اس سے پتہ چل گیا کہ جب تک ستاروں سے راہنمائی حاصل نہ کی جائے تو کشتی کا کنارے پر پہنچنا ممکن نہیں۔
خوب تر سے خوب ترین:
ونعم ما قال الامام فخر الدین الرازی فی تفسیرہ نحن معاشر اھل السنۃ بحمد اللہ رکبنا سفینۃ محبۃ اہل البیت واھتدینا بنجم ھدی اصحاب النبی فنرجو النجاۃ من اھوال القیامۃ ودرکات الجحیم والھدایۃ الی مایوجب درجات الجنان والنعیم المقیم ۔()
امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ نے تفسیر کبیر میں کیا خوب فرمایا ہے کہ ہم اہل سنت وجماعت بحمد اللہ محبتِ اہلبیت کی کشتی پر سوار ہیں، اور نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام جو ستاروں کی طرح ہیں، ان سے ہدایت حاصل کر رہے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں قیامت کی ہولناکیوں سے نجات حاصل کرنے کی، اور جہنم کے مقامات سے بچنے کی، اور امید رکھتے ہیں جنت کے اعلیٰ مقامات کو حاصل کرنے کی اور دائمی نعمتوں کے حصول کی۔
وعن عبداللہ بن مغفلص قال قال رسول اللہ ﷺ اللہ اللہ فی اصحابی لاتتخذوھم غرضا من بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضھم فببغضی ابغضہم ومن اذاھم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللہ ومن اذی اللہ فیوشک ان یأخذہ ۔()
عبداللہ بن مغفل صکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو میرے صحابہ کے بارے میں، میرے بعد ان کو موردِ طعن وتشنیع نہ بنانا۔ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ہی ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے بغض کی وجہ سے ہی ان سے بغض رکھا، اور جس نے ان کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی، جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے گرفت میں لے لے۔
وعن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ احبو اللہ لما یغذوکم من نعمۃ واحبونی لحب اللہ واحبوا اھل بیتی لحبی۔()
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو کہ اس نے نعمت کا رزق عطا کر رکھا ہے، اور اللہ کی محبت کی وجہ سے میرے ساتھ محبت رکھو، اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے محبت رکھو۔
بس ایمان اسی چیز کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام ثاور اہلِ بیتث کی محبت حاصل ہو۔
واتفق اہل السنۃ افضلھم ابوبکر ثم عمر قال جمہورہم ثم عثمان ثم علی۔ اہلسنت وجماعت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ کرام سے افضل حضرت ابوبکر پھر حضرت عمر اور جمہور اصحاب علم کا یہ قول ہے کہ پھر حضرت عثمان اور پھر حضرت علی ث۔()
Share:
keyboard_arrow_up