اللہ تعالیٰ حضرت شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا فیض تادیر اور دوردراز تک جاری وساری رکھے، آمین یارب العالمین۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
۵ ذوالحجۃ ۱۴۲۶ ھ
محمد عبدالحکیم شرف قادری
۶ جنوری ۲۰۰۶ ءلاہور
تقریظ جلیل
مفسرِ قرآن علامہ مفتی عبدالرزاق چشتی بھترالوی رحمۃ اللہ علیہ
شیخ الحدیث جامعہ جماعتیہ مہر العلوم راولپنڈی
الحمد للہ ساتر العیوب وغافر الذنوب وقابل التوبۃ والیہ اتوب والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد المحبوب وعلی آلہ واصحابہ الذین جاہدوا فی سبیل اللہ باموالہم وانفسہم وما مسہم من لغوب اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰) ()
’’اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث (مالک) اللہ ہی ہے۔ تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے‘‘۔
اس آیت کریمہ سے بہت واضح طور پر ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تمام صحابہ کرام سے جنت کا وعدہ ہے ہاں البتہ جن صحابہ کرام نے فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا ان کا مرتبہ بلند ہے بنسبت ان صحابہ کرام کے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا۔
خیال رہے کہ صحابہ کرامث وہ حضرات ہیں جنہوں نے حالتِ ایمان میں نبی کریم ﷺ کی صحبت اختیار کی ہو، یعنی آپ کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل کیا ہو اور حالتِ ایمان پر ہی دنیا سے رخصتی حاصل ہو۔
لہٰذا مطلقاً صحابہ کرام کا لفظ جب بولا جائے گا تو وہ تمام صحابہ کرام کو شامل ہو گا، اسی کے ضمن میں اہل بیت اطہار بھی آئیں گے اور خلفائے راشدین بھی، تاہم بالخصوص خلفائے راشدین اور اہل بیت کے فضائل بھی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔
قال رسول اللہ ﷺ اصحابی کالنجوم فبایہم اقتدیتم اھتدیتم ۔()
رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جن کی بھی اقتداء کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
وعن ابی ذرص انہ قال وھو أخذ بباب الکعبۃ سمعت النبی یقول الا ان مثل اہل بیتی فیکم مثل سفینۃ نوح من رکبھا نجا ومن تخلف عنہا ھلک۔ ()
حضرت ابوذرصنے کعبہ شریف کے دروازے کو پکڑے ہوئے فرمایاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوارشاد فرماتے ہوئے سنا، خبردار ! بیشک میرے اہل بیت تم میں اس طرح ہیں جس طرح نوحں کی کشتی تھی۔جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا، اور (کفر کی وجہ سے)پیچھے ہٹا رہا وہ ہلاک ہو گیا۔
فکذا من التزم محبتہم ومتابعتھم نجا فی الدارین والا فھلک فیھما۔()
اسی طرح جس نے اہل بیت کی محبت کو لازم پکڑا اور ان کی تابعداری کی وہ دونوں جہانوں یعنی دنیا و آخرت میں نجات پا گیا، اور جس نے اہل بیت سے محبت نہ کی اور ان کی تابعداری نہ کی تو وہ دونوں میں ہلاک ہو گیا۔
’’ولوکان یفرق المال والجاہ او احدھما‘‘ اس کے مال خرچ کرنے اور اس کے مرتبہ ووجاہت کا اسے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
Page 3 of 134

