’’ اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی، وہی سچے ایمان والے ہیں، اُن کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی ‘‘۔
ان آیات کریمہ میں مہاجرین و انصار صحابہ کرام کی شان بیان ہوئی۔ رب تعالیٰ نے خوشخبری دی کہ ان کے لیے دنیا میں بھی عزت و بلند مقام ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم ہے۔ آخر الذکر آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مہاجرین و انصار تمام صحابہ علیہم الرضوان سچے مومن اور متقی ہیں۔ غور فرمائیے کہ جن نفوس قدسیہ کے سچے مومن ہونے کی رب تعالیٰ گواہی دے اور جن کی لغزشوں کی مغفرت کی سند مالک الملک عطا کرے، ان کے ایمان واعمال پر کسی کو تنقید کا حق کیونکر دیا جاسکتا ہے؟؟
5۔لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸)()
’’(مال غنیمت) اُن فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے، اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے ، وہی سچے ہیں‘‘۔
اس آیتِ مقدسہ سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام جنہوں نے ہجرت کی، وہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضا مندی کے طالب ہیں، دینِ اسلام کے مددگار ہیں اور دین میں سچے ہیں۔ایسے جلیل القدر مقدس نفوس کے صادق و صدیق ہونے میں شک کرنا یا ان کی عظمت کا انکار کرنا در حقیقت قرآنِ عظیم کے انکار کے مترادف ہے۔
6۔وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰) ()
’’اور وہ جو اُن ( مہاجرین و انصار صحابہ کرامث )کے بعد آئے ، عرض کرتے ہیں ، اے ہمارے رب ! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے، اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ۔ اے رب ہمارے بیشک تو ہی نہایت مہربان رحم والاہے‘‘۔
ان آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جس کے دل میں صحابی کی طرف سے بغض یا کدورت ہو اور وہ ان کے لیے دعا ئے رحمت و استغفار نہ کرے ، وہ مومنین کی اقسام سے خارج ہے کیونکہ یہاں مومنین کی تین قسمیں فرمائی گئیں۔ مہاجرین، انصار اور ان کے بعد والے جو ان کے تابع ہوں اور ان کی طرف دل میں کوئی کدورت نہ رکھیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں۔
تو جو صحابہ سے کدورت رکھے رافضی ہو یا خارجی، وہ مسلمانوں کی ان تینوں قسموں سے خارج ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ، لوگوں کو حکم تو یہ دیا گیا کہ صحابہ کے لیے استغفار کریں اور کرتے یہ ہیں کہ گالیاں دیتے ہیں‘‘۔()
7۔ اَلتَّآىٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآىٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۱۲) ()
’’ توبہ والے ، عبادت والے ، سراہنے والے، روزے والے ، رکوع والے، سجدہ والے، بھلائی کے بتانے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدیں نگاہ میں رکھنے والے، اور خوشی سناؤ مسلمانوں کو‘‘۔
8۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ(۲) الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ(۳) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ(۴) ()
Page 10 of 134

