’’ ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ، ان کے دل ڈر جائیں اور جب اُن پر اس کی آییتں پڑھی جائیں، اُن کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔ اور وہ جو نمازقائم رکھیں اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں۔ یہی سچے مسلمان ہیں، ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی ‘‘۔
مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں جو صفات بیان ہوئیں وہ سب صحابہ کرام ثمیں موجود ہیں اس لیے قرآن عظیم کی گواہی سے تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان سچے مومن ہیں اور ان کے لیے مغفرت اور بلند درجے ہیں۔
9۔ لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ٘-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۸۸) اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠(۸۹) ()
’’لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے، انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا اور اُنہیں کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد کو پہنچے ۔ اللہ نے ان کے لیے تیار کررکھی ہیں بہشتیں جن کے نیچے نہریں رواں، ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہی بڑی مراد ملنی ہے‘‘۔
10۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْۙ-اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۲۰) یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ(۲۱) خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۲۲) ()
’’ وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں لڑے ، اللہ کے یہاں ان کا درجہ بڑا ہے اور وہی مراد کو پہنچے۔ان کا رب انہیں خوشی سناتا ہے اپنی رحمت اور اپنی رضا اور ان باغوں کی جن میں انہیں دائمی نعمت ہے۔ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، بیشک اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے‘‘۔
سرکار دوعالم اکے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو ان صفات سے کامل طور پر متصف تھے ، ان کے جنتی ہونے کے متعلق قرآن عظیم کی یہ آیات گواہ ہیں۔رب کریم نے جو ہر شخص کا ماضی ، حال اور مستقبل خوب جاننے والا ہے ، اُس علّامُ الغیّوب نے جن نفوسِ قدسیہ کے متعلق رحمت ، رضا، جنت اور کامیابی کی خوشخبری سنائی ہے ، ان میں سے کسی ایک کے بھی ایمان یا تقوٰی کا انکار ان آیاتِ قرآنی کا انکار ہے۔
11۔ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ ﳓ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ-لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠(۱۹) ()
’’ اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے، اوراوروں(یعنی دوسروں) پر گواہ ہیں اپنے رب کے یہاں، ان کے لیے اُن کا ثواب اور اُن کا نور ہے‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں صحابہ کرام کی شان یہ بیان ہوئی کہ وہ صدیقیت کے مقام پر فائز ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم کی بتائی ہوئی تمام باتوں کی تصدیق کرتے تھے۔ اور رب کریم کا حکم ہے ، کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ یعنی سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔()
حضرت ضحاک رحمہ اللہ نے صدیق کا ایک خاص معنی بیان کیا ہے وہ یہ کہ جن حضرات نے اسلام لانے میں سبقت کی اولاً وہ مقامِ صدیقیت پر فائز ہوئے۔ جن میں حضرت ابوبکر، حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت زید، حضرت سعد اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہم اجمعین شامل ہیں بعد میں جب حضرت عمرص اسلام لائے تو ان کی نیت کی صداقت کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی مقامِ صدیقیت پر فائز کر دیا۔ حضرت عمرص کو یہ اعزاز ملا کہ وہ صدیقیت کے مقام میں حضرت صدیقِ اکبرص کے بعد سب سے افضل ہیں۔ ()
Page 11 of 134

