12۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ(۱۵) ()
’’ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک نہ کیا اور اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہی سچے ہیں‘‘۔
یہ تمام صفات صحابہ کرام علیہم الرضوان میں موجود تھیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُن کے سچے ہونے کی گواہی دی۔
13۔وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ(۷) فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةًؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۸) ()
’’لیکن اللہ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اِسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کردی، ایسے ہی لوگ راہ (ہدایت )پر ہیں۔ (اُن پر) اللہ کا فضل اور احسان، اور اللہ علم و حکمت والا ہے‘‘۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام کفر و فسق اور گناہ سے محفوظ ہیں اور رب تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا فرما کر انہیں راہ حق پر ثابت قدم بنا دیاہے۔ ان کے دل ایمان اور تقوٰی سے مزیّن اور معمور ہیں لہٰذا ان میں کوئی بھی فاسق نہیں۔
متعدد آیات پہلے بیان ہوئیں جن میں رب تعالیٰ نے صحابہ کرام کے لیے مغفرت اور جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس لئے اگر بالفرض کسی صحابی سے کوئی اجتہادی لغزش سرزد ہو بھی جائے تو اُسے توبہ کی توفیق ضرور نصیب ہوتی ہے۔
14۔ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْؕ-وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۵۲) ()
’’اور بیشک اس نے تمہیں معاف کردیا، اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے‘‘۔
15۔ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠(۱۵۵) ()
’’ اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا ، بے شک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے‘‘۔
اس سے معلوم ہوا کہ اُحد کی جنگ میں جن مومنوں کے قدم اکھڑ گئے، ان کی معافی ہوگئی۔ اب جو ان کے اس واقعہ کو ان کی توہین کی نیت سے بیان کرے وہ بے ایمان ہے۔جیسے حضرت آدم علیہ السلام کا گندم کھا لینا معاف ہو چکا، اب جو ان پر طعن کرے وہ کافر ہے۔ بلکہ جس قصور کی معافی کا رب اعلان فرما دے وہ ہماری طاعتوں سے بہتر ہے کہ جن کی قبولیت کا کوئی یقین نہیں۔()
16۔ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(۱۳) ()
’’ اور جب ان (منافقوں) سے کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے اور لوگ (یعنی صحابہ کرام ث)ایمان لائے ہیں تو کہیں ، کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں، سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں‘‘۔
17۔ فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْاۚ- ()
’’پھر اگر وہ بھی یوں ایمان لائے (اے صحابہ!) جیسا تم لائے ، جب تو وہ ہدایت پا گئے‘‘۔
ان آیات مبارکہ میں صحابہ کرام کو ایمان کی کسوٹی قرار دیا گیاہے۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ مومن وہی ہے جس کا ایمان صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ایمان کی طرح ہو۔ نیز جو ان کے ایمان پر تنقید کرے وہ منافق و احمق ہے۔
18۔ كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ- ()
Page 12 of 134

