’’تم بہتر ہو اُن سب امتو ں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں، بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘۔
اس آیتِ کریمہ کے اولین مصداق اور مخاطب صحابہ کرام علیہم الرضوان ہیں جو اِن صفات کے کامل مظہر تھے۔قرآن کریم نے ان کے ایمان کی اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی صفات کی گواہی دے کر ان کی عظمت بیان کی۔
19۔ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ-ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ ﳝ- وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ ﱠ كَزَرْعٍ اَخْرَ جَ شَطْــٴَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَؕ-وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠(۲۹) ()
’’محمدا اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل، تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے ، سجدے میں گرتے ، اللہ کا فضل و رضا چاہتے ۔ ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے ، یہ ان کی صفت توریت میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں ، جیسے ایک کھیتی ، اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی ، کسانوں کو بھلی لگتی ہے(یعنی ابتدا میں اسلام کے ماننے والے کم تھے رب کریم نے صحابہ کے ذریعے اسے طاقت دی اور اللہ و رسول ﷺ کو صحابہ کرام پیارے بھلے لگتے ہیں) تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں ، اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں ، بخشش اور بڑے ثواب کا‘‘۔
اس آیت مقدسہ میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی صفات بیان ہوئیں کہ وہ آپس میں مہربان و نرم دل ہیں اور کافروں پر سخت ہیں ۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ ان کی صفات توریت و انجیل میں بھی مذکور ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کی راہ حق پر استقامت اور باہم خلوص و محبت دیکھ کر اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ تو خوش ہوتے ہیں مگرکافروں کے دل جلنے کڑھنے لگتے ہیں ۔ جن کے ایمان وتقویٰ کی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ گواہی دی ہے اور ان سے جلنے والوں کو کافر بتایا ہے حیرت ہے کہ آج بعض لوگ مومن ہونے کے مدعی ہونے کے باوجود اِن محبوبان خدا ث سے کینہ وعداوت رکھتے ہیں اور ان پر تبرّا کرنے پر ناز کرتے ہیں ۔ اگر تعصب کی وجہ سے کسی کی آنکھیں حق دیکھنے سے بالکل اندھی نہ ہو گئی ہوں تو اسے چاہیے کے وہ اس آیت مقدسہ کو بار بار پڑھے اور غور کرے کہ اس کا عقیدہ سچے مومنوں کا سا ہے یا کافروں سا۔ رب کریم حق سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
بعض گمراہ کہتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں مِنْہُمْ میں مِنْ بعضیہ ہے یعنی مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ تمام صحابہ کرام کے لیے نہیں بلکہ بعض صحابہ کے لیے ہے۔ یہ قول باطل و مردود ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مِنْ حرفِ جار ہے اور علمائے لغت نے اس کے استعمال کی چودہ صورتیں بیان کی ہیں۔اس آیتِ کریمہ میں قرآن کریم کی متعدد آیات کی طرح مِنْ بیان کے لیے ہے تبعیض کے لیے نہیں ۔ جیسا کہ یہ آیت ہے ، فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ () ’’ پس دور رہو بتوں کی گندگی سے ‘‘۔
Page 13 of 134

