Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 14 of 134
اس آیت کریمہ میں مِنْ بیان کے لیے ہے تبعیض کے لیے نہیں ورنہ لازم آئے گا کہ بعض بتوں کی پوجا سے دور رہو اور بعض کی پوجا کرتے رہو۔ شیعہ مفسر طوسی نے بھی اپنی تفسیر التبیان میں مذکورہ بالا آیت کے تحت یہی لکھا ہے کہ’’مِنْہُمْ میں مِنْ بیان کے لیے آیا ہے کہ مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ صرف صحابہ کرام کے ساتھ مخصوص ہے، ان کے سوا دوسروں کے لیے نہیں‘‘۔()
20۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ- ()
’’ وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ (دستِ قدرت) ہے‘‘۔
اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے جو نبی کریم ﷺ نے کم و بیش چودہ سو صحابہ سے حدیبیہ میں لی تھی۔ شمع رسالت کے ان پروانوں کو یہ اعزاز ملا کہ قرآن کریم نے ان کی بیعت کو اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنا فرمایا اور حضور اکرم ﷺ کے دستِ مبارک کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دستِ قدرت قرار دیا۔
21۔ لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ(۱۸) ()
’’ بیشک اللہ راضی ہوا ،ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو اُن کے دلوں میں ہے تواُن پر اطمینان اتارا اور انہیں اور آنے والی فتح کا انعام دیا‘‘۔
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ بیعتِ رضوان والے تمام صحابہ مخلص مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رضا کا مژدہ دیا ہے۔ ان نفوسِ قدسیہ میں حضرت ابو بکرص اورحضرت عمرص بھی تھے جبکہ حضرت عثمان صکی طرف سے حضورِاکرم ا نے خود بیعت کی تھی۔ شیعہ مفسر طبرسی نے اس آیت کے تحت لکھا ہے، ’’فعلم ما فی قلوبہم من الیقین والصبر والوفا‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے جان لیا جو ان (صحابہ کرام) کے دلوں میں یقین ، صبر اور وفا کے جذبات تھے۔()
22۔ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْؕ()
’’وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا تاکہ انہیں یقین پر یقین بڑھے‘‘۔
23۔ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ- ()
’’ تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ اُن پر لازم فرمایا، اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے۔ اور اللہ سب کچھ جانتا ہے‘‘۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کو اطمینان و سکون کی دولت سے مالا مال کیا اور ان کے لیے کلمۃالتقویٰ لازم فرمایا۔ مفسرین کے نزدیک کلمۃ التقویٰ سے مراد کلمۂ توحید ہے جو ہر تقویٰ کی اصل اور بنیاد ہے۔ یہ نعمتیں علیم وحکیم رب نے صحابہ کرام کو بے سبب نہیں عطا کیں بلکہ وہ علاَّم الغیوب گواہی دے رہا ہے کہ صحابہ کرام ان نعمتوں کے زیادہ مستحق اور اہل تھے۔ انصاف سے کہیے کہ جن کے ایمان و تقویٰ کے اور انعاماتِ الٰہیہ کے مستحق و اہل ہونے کی اللہ تعالیٰ گواہی دے، اُن کے متعلق بد گمانی کرنا یا ان پر تنقید کرنا کیا کسی مومن کو زیب دیتا ہے؟؟؟
قاضی ثناء اللہ پانی پتی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں ، ’’رافضی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام (معاذاللہ) کافر و منافق تھے۔ اس آیت ’’لقدرضی اللہ‘‘ سے روافض کے قول کا لغو ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ اس آیت کے آخر میں ارشاد ہوا : وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلّ شَیْئٍ عَلِیْمًا
Share:
keyboard_arrow_up