Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 15 of 134
یعنی صحابہ کرام کے دلوں میں جو ایمان اور رسول اللہ ﷺ کی محبت مخفی ہے، اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے‘‘۔()
24۔ قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصْطَفٰیؕ ()
’’تم کہو ، سب خوبیاں اللہ کو اور سلام اس کے چُنے ہوئے بندوں پر‘‘۔
حضرت ابن عباس ص فرماتے ہیں کہ ان برگزیدہ بندوں سے مرادحضور ﷺ کے صحابہ کرام ہیں، یہی سدّی، حسن بصری، سفیان بن عیینہ اور سفیان ثوری رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے اکابر ائمہ کا قول ہے۔()
جس مسلماں نے دیکھا اُنہیں اک نظر
اُس نظر کی بصارت پہ لاکھوں سلام
شانِ صحابہ، احادیث کی روشنی میں
1۔ حضرت عمران بن حصینصسے روایت ہے کہ سرکار دوعالم ا نے فرمایا: ’’میری امت میں بہترین زمانہ میرا ہے پھر اُن کے ساتھ والوں کا اور پھر اُن کے ساتھ والوں کا‘‘۔()
اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق میں سے حضرت محمد مصطفیٰ ا کو منتخب فرما کر اپنا محبوب رسول بنایا اس لیے آپ خیرُالخلائق ہیں، آپ کا دین خیرُ الادیان ہے، آپ کی کتاب خیرُالکتب ہے، آپ کی امت خیرُ الاُمم ہے، آپ کا زمانہ خیرُ القرون ہے اسی طرح آپ اکے اصحاب بھی خیرُ الاصحاب ہیں ۔
2۔ حضرت ابو بردہ صسے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ا نے فرمایا ،
’’ ستارے آسمان کے لیے امن کا باعث ہیں ۔ جب ستارے چلے جائیں گے تو آسمان پر واقع ہو جائے گا جس کا اُس سے وعدہ کیا گیا ہے۔ میں اپنے صحابہ کے لیے امن ہوں جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر واقع ہو جائے گا جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے۔اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امن و امان ہیں جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت پر واقع ہو جائے گا جو اس سے وعدہ کیا گیا ہے‘‘۔()
جب قیامت آئے گی تو پہلے آسمان سے ستارے جھڑیں گے پھر آسمان پھٹے گا گویا ستاروں کا موجود ہونا آسمان کے لیے امن ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کی ظاہری حیات میں صحابہ کرام فتنوں اور اختلافات سے محفوظ رہے۔ اور صحابہ کرام کی موجودگی میں امت میں کوئی فتنہ پنپ نہ سکا البتہ صحابہ کرام کے بعد دین میں فتنہ و فساد پھیل گیا اور کئی گمراہ فرقے پیدا ہوئے۔
3۔ حضرت ابو سعید خدریصسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’میرے کسی صحابی کو برا نہ کہو کیونکہ تم میں سے اگر کوئی اُحدپہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو اُن کے ایک مُد یا اس کے نصف کے ثواب کو بھی نہیں پہنچے گا ‘‘۔()
ایک صاع کے چوتھائی حصہ کو مُدکہتے ہیں ۔گویامُد کی مقدارایک سیر دو چھٹانک بنتی ہے ۔ اب حدیث پاک کا مفہوم یہ ہوا کہ غیر صحابی کتنا ہی نیک ہو اور راہِ خدا میں اگر اُحد پہاڑ کے برابر سونا خیرات کرے تو بھی ثواب ودرجہ میں کسی صحابی کے خیرات کیے ہوئے ایک سیر دو چھٹانک بلکہ اس کے نصف کے ثواب کو بھی نہیں پا سکتا ۔ جب صحابہ کرام کی خیرات کا یہ بلند رُتبہ ہے تو ان کی نمازوں ، روزوں ، زکوٰۃ وجہاد اور دیگر عبادات کا کس قدر اعلیٰ مقام ہو گا۔!!!
4۔ حضرت عمر صسے روایت ہے کہ نور مجسم انے فرمایا ،’’میرے صحابہ کی عزت کرو کیونکہ وہ تم میں بہتر ہیں پھر وہ لوگ جو اُن سے متصل ہیں پھر وہ لوگ بہتر ہیں جو ان کے ساتھ والے ہیں‘‘۔()
جن لوگوں نے صحابہ کرام کا زمانہ پایا اُنہیں تابعین کہتے ہیں اور جنہوں نے تابعین کا زمانہ پایا وہ تبع تابعین ہیں ۔ اس حدیث پاک میں صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین کے بہتر اور بھلائی پر ہونے کی گواہی دی گئی ہے اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان بہترین لوگوں کی تعظیم وتوقیر کریں اور ان کا ذکر ہمیشہ خیر ہی کے ساتھ کریں ۔
Share:
keyboard_arrow_up