Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 16 of 134
5۔ حضرت جابر ص سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا کریم انے فرمایا ، ’’اُس مسلمان کو آگ نہیں چھو ئے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا‘‘۔()
اس حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام وتابعین عظام کو جہنم کی آگ نہیں چھوسکتی کیونکہ وہ رب کریم کی خاص رحمت سے جنت کے مستحق ہوتے ہیں ۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ حضرت امیر معاویہص، رسول کریم ﷺ کے جلیل القدرصحابی اور امام اعظم ابو حنیفہ صعظیم المرتبت تابعی ہیں ۔ ان کی گستاخی وبے ادبی سخت جرم اور رحمتِ الٰہی سے محرومی کا باعث ہے ۔
6۔ حضرت عبداﷲبن مغفلصسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ،
’’میرے صحابہ کے بارے میں اﷲ تعالیٰ سے ڈرنا ، میرے صحابہ کے متعلق اﷲ سے ڈرنا۔ میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنالینا ۔ جو اُن سے محبت کرتا ہے تو وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے اُن سے محبت کرتا ہے اور جواُن سے عداوت رکھتا ہے تو وہ مجھ سے عداوت رکھنے کی وجہ سے اُن سے عداوت رکھتا ہے۔ جس نے انہیں تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اﷲتعالیٰ کو تکلیف دی ، اور جس نے اﷲ تعالیٰ کو تکلیف دی تو قریب ہے کہ اﷲ تعالیٰ اسے پکڑے ۔()
معلوم ہوا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے بغض وکینہ رکھنا اور اُن پر تنقید کرنا درحقیقت حبیب کبریا علیہ التحیۃُوالثناء سے عداوت رکھنا اور انہیں اذیت دینا ہے اور آقا ومولیٰ ا کو اذیت دینا دراصل اﷲ تعالیٰ کو اذیت دینا ہے اور ایسے لوگ اﷲ تعالیٰ کے قہر وغضب کے مستحق ہیں ۔
7۔ حضرت انس صسے روایت ہے کہ نورمجسم انے فرمایا ،’’میری امت میں صحابہ کی مثال نمک کی سی ہے کیونکہ نمک کے بغیر کھانا درست نہیں ہوتا ۔()
یعنی جس طرح نمک کی قلیل مقدار کھانے کودرست کر دیتی ہے اسی طرح صحابہ کرام قلیل تعداد میں ہونے کے با وجود تمام امت کی اصلاح کا ذریعہ ہیں ۔ بلکہ کسی ایک صحابی کے وجود مسعود کو مسلمان رب تعالیٰ کی رحمتوں کے نزول کا ذریعہ اور فتح و نصرت کے حصول کا وسیلہ سمجھتے تھے جیسا کہ اگلی حدیث سے واضح ہے ۔
8۔ حضرت ابو سعید خُدری ص سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا انے فرمایا ، ’’ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ ایک جماعت جہاد کرے گی تو لوگ کہیں کے ، کیا تم میں رسول اﷲﷺ کا کوئی صحابی ہے ،جواب ملے گا ، ہاں۔ پس انہیں فتح دی جائے گی ۔پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ ایک جماعت جہاد کرے گی تو لوگ کہیں گے ، کیا تم میں رسول اﷲ ﷺ کے صحابی کا کوئی ساتھی ہے ؟جواب ملے گا ، ہاں ۔ پھر انہیں فتح دی جائے گی ۔ پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ ایک جماعت جہاد کرے گی تو کہا جائے گا ، کیا تم میں صحابہ کے ساتھی کا کوئی ساتھی ہے ؟ جواب ملے گا ، ہاں ۔ پس انہیں فتح دی جائے گی۔()
یعنی صحابہ کے طفیل پھر تابعین کے طفیل پھر تبع تابعین کے طفیل مسلمانوں کوجہاد میں فتح و نصرت عطا ہوتی ہے ۔ اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ رب تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کے وسیلے سے رحمتیں نازل فرماتا ہے پس حاجت روائی کے لیے محبوبانِ خدا اور اولیا ء اﷲ کا وسیلہ اختیار کرنا اور ان کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے ۔
9۔ حضرت عبداﷲ بن عمر صسے روایت ہے کہ سرکار دوعالم ا نے فرمایا ،’’ جب تم اُن لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہوں تو کہو، تمہارے شر پر اللہ کی لعنت‘‘۔()
اس حدیث پاک میں غیب کی خبر دی گئی کہ مسلمانوں میں ایسے گمراہ لوگ پیدا ہوں گے جو صحابہ کرام کے متعلق بد گوئی اور زبان درازی کریں گے۔ نیز ایسے گمراہ بدمذہب ، صحابہ کرام کے زمانے ہی میں پیدا ہو جائیں گے، یہ دوسری غیبی خبر ہے چنانچہ عبداللہ بن سبا یہودی نے حضرت علی ص کے دور میں مذہب رفض ایجاد کیا ( اس کی تفصیل آگے مذکور ہو گی)۔ اسی زمانے میں خارجی فرقہ پیدا ہوا ۔ خوارج اہل بیت اطہار کے دشمن ہیں اور روافض صحابہ کرام کے دشمن ہیں ۔ خدا ہمیں دونوں کے شر سے بچائے آمین۔
Share:
keyboard_arrow_up