Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 17 of 134
10۔ حضرت عمرص سے روایت ہے کہ آقائے دوجہاں ا نے فرمایا، ’’میں نے اپنے رب سے اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق سوال کیا جو میرے بعد ہو گا تو میری طرف وحی ہوئی ، اے محمدمصطفی ا! تمہارے اصحاب میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں کہ بعض بعض سے قوی ہیں لیکن سب نورانی ہیں۔ جس نے ان میں سے کسی کے بھی موقف کو اختیار کیا وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے‘‘۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ، ’’ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں، تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت ہی پاؤگے‘‘۔ ()
حدیث پاک میں مذکو ر اختلاف سے فقہی مسائل میں اختلاف مراد ہے۔ پس جو کسی صحابی کے فتویٰ پر عمل کرے گا ہدایت پائے گا۔ہمارے امام اعظم ابو حنیفہص جلیلُ القدر صحابی حضرت عبداﷲ بن مسعودص کی تقلید فرماتے ہیں ۔ اس موضوع پر تفصیل جاننے کے لیے فقیر کی کتاب ’’ سیدنا امام اعظم‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔
رسول کریم ﷺ کی شان میں قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے، ’’اے غیب بتانے والے! بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور اﷲ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب بنا کر‘‘۔()
یہاں حضور ﷺ کی صفت سراجاًمنیراً ارشاد ہوئی یعنی چمکا دینے والا آفتاب۔ بقول صدرُ الافاضل رحمۃاللہ علیہ،’’ حقیقت میں آپ ا کا وجودِ مبارک ایک ایسا آفتابِ عالم تاب ہے جس نے ہزارہا آفتاب بنا دیئے‘‘۔()
پس اس آیت مبارکہ اور مذکورہ حدیث سے ثابت ہوا کہ نورِ مجسم ا کی بابرکت صحبت کی تاثیر اس قدر ہے کہ اس کی نورانیت سے صحابہ کرام علیہم الرضوان نورانی ہوگئے اور آسمانِ ہدایت کے ستارے قرار پائے۔
11۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود ص سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا، اﷲتعالیٰ نے بندوں کے دلوں کو دیکھا تو رسول کریم ﷺ کے دل کو سب بندوں کے دلوں سے بہتر پایا۔ لہٰذا ان کو برگزیدہ کیا اور رسالت کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ حضور ﷺ کے قلبِ اطہر کے بعد رب تعالیٰ نے دوبارہ بندوں کے قلوب کو دیکھا تو (انبیاء کرام کے بعد) آپ کے اصحاب کے دلوں کو سب سے بہتر پایا لہٰذا ان کو اپنے محبوب رسول ﷺ کا وزیر بنا دیا تاکہ وہ آپ کے دین کے طرف سے (کافروں کے خلاف) لڑتے رہیں۔()
12۔ حضرت عویم بن ساعدہ صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ ا نے فرمایا، بیشک اﷲتعالیٰ نے مجھے چن لیا اور میرے لیے میرے اصحاب کو چن لیا پھر ان میں سے بعض کو میرے وزیر، میرے مددگار اور میرے سسرالی رشتہ دار بنادیا۔ پس جو شخص اُن کو برا کہتا ہے اس پر اﷲ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور سارے انسانوں کی لعنت۔ قیامت کے دن نہ اس کا کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل ۔()
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح رب تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو تمام مخلوق میں سے چن کر اپنا محبوب رسول بنایا ہے ایسے ہی تمام اولاد آدم میں سے بہترین لوگوں کو چن کر رب تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول ﷺ کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔اسی بنا پر انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام تمام لوگوں سے افضل ترین قرار پائے ۔
بلا شک و شبہ اگر صحابہ کرام سے بہتر کوئی اور لوگ ہوتے تو رب کریم اپنے محبوب رسول ﷺ کی صحبت ورفاقت کے لیے ان کو منتخب فرماتا۔ اس بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی صحابہ کرام پر تنقید کرتا ہے تو وہ صرف صحبتِ نبوی ہی کی نہیں بلکہ رب تعالیٰ عزوجل کے انتخاب کی بھی تنقیص و توہین کا مرتکب ٹھہرتا ہے ۔( العیاذباﷲ)
جن کے دشمن پہ لعنت ہے اللہ کی

اُن سب اہلِ محبت پہ لاکھوں سلام
Share:
keyboard_arrow_up