جاں نثارانِ بدر و اُحد پر درود
حق گذارانِ بیعت پہ لاکھوں سلام
خلیفۂ اوّل،سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
علمائے اہلسنت کا اس امر پر اجماع اور اتفاق ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکرص ، ان کے بعد حضرت عمرص، پھر حضرت عثمان صاور اس کے بعد حضرت علیص، ان کے بعد عشرہ مبشرہ کے دیگر حضراتث،پھر اصحابِ بدرث،پھر باقی اصحابِ اُحدث ان کے بعد بیعتِ رضوان والے اصحاب ث اور ان کے بعد دیگر اصحابِ رسول تمام لوگوں سے افضل ہیں۔()
حضرت ابوبکرص کو سب سے پہلے اسلام لانے کا شرف حاصل ہے۔ بعض کے نزدیک حضرت علیص سب سے پہلے ایمان لائے ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ صنے اس طرح کے مختلف اقوال میں یوں تطبیق کی ہے کہ مردوں میں سیدنا ابوبکر صدیقص ، عورتوں میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور بچوں میں سیدنا علی صکو سب سے پہلے ایمان لانے کا اعزاز حاصل ہے۔
تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق صقبولِ اسلام کے بعد سے آقا و مولیٰ اکے وصال مبارک تک ہمیشہ سفر وحضر میں آپ کے رفیق رہے بجز اس کے کہ نبی کریم ﷺ کے حکم یا اجازت سے آپ کے ساتھ نہ رہ سکے ہوں۔
آپ تمام صحابہ کرام میں سب سے زیادہ سخی تھے۔آپ نے کثیر مال خرچ کر کے کئی مسلمان غلام آزاد کرائے۔ ایک موقع پر سرکارِ دوعالم ا نے فرمایا، ابوبکر کے مال نے مجھے جتنا نفع دیا اتنا کسی کے مال نے نہیں دیا۔ اس پر حضرت ابوبکرص نے روتے ہوئے عرض کی، ’’میرے آقا! میں اور میرا مال سب آپ ہی کا ہے‘‘۔
تمام صحابہ کرام میں آپ ہی سب سے زیادہ عالم تھے۔ آپ سے ایک سوبیالیس احادیث مروی ہیں حالانکہ آپ کو بکثرت احادیث یاد تھیں۔ قلتِ روایت کا سبب یہ ہے کہ احتیاط کے پیشِ نظر آپ نبی کریم ﷺ کا عمل یا اس سے حاصل شدہ مسئلہ بیان فرمایا کرتے۔ آپ سب سے زیادہ قرآن اوردینی احکام جاننے والے تھے،اسی لیے رسول کریم ﷺ نے آپ کو نمازوں کا امام بنایا تھا۔آپ اُن خاص صحابہ میں سے تھے جنہوں نے قرآن کریم حفظ کیا تھا۔
حضرت علی صفرماتے ہیں کہ قرآن مجید کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجروثواب حضرت ابوبکرص کو ملے گا کیونکہ سب سے پہلے قرآن کریم کتاب کی صورت میں آپ ہی نے جمع کیا۔
حضرت ابن مسیبص فرماتے ہیں، حضرت ابوبکرص رسول کریم ﷺکے وزیرِ خاص تھے چنانچہ حضور ﷺ آپ سے تمام امور میں مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ آپ اسلام میں ثانی، غار میں ثانی، یومِ بدر میں سائبان میں ثانی اور مدفن میں بھی حضور ﷺ کے ساتھ ثانی ہیں۔رسول کریم ﷺ نے آپ پر کسی کو فضیلت نہیں دی۔
آپ کا سب سے بڑا کارنامہ مرتدوں سے جہاد اور ان کے فتنے کا مکمل انسداد ہے۔ یمامہ، بحرین اور عمان وغیرہ کے مرتدین کی سرکوبی کے بعد اسلامی افواج نے ایلہ،مدائن اور اجنادین کے معرکوں میں فتح حاصل کی۔آپ کی خلافت کی مدت دو سال سات ماہ ہے۔
سیدنا ابوبکرص نے وصال کے وقت اپنی صاحبزادی حضرت عائشہرضی اللہ عنہا سے فرمایا، یہ اونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں اور یہ بڑا پیالہ جس میں ہم کھاتے پیتے ہیں اور یہ چادر جو میں اوڑھے ہوئے ہوں، ان تین چیزوں کے سوا میرے پاس بیتُ المال کی کوئی چیزنہیں۔ ان چیزوں سے ہم اس وقت تک نفع لے سکتے تھے جب تک میں امورِ خلافت انجام دیتا تھا۔ میرے انتقال کے بعد تم ان چیزوں کو حضرت عمر کے پاس بھیج دینا۔ آپ کے وصال کے بعد جب یہ چیزیں سیدنا عمرص کو واپس کی گئیں تو انہوں نے فرمایا، اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے۔ انہوں نے اپنے جانشین کو مشقت میں ڈال دیا۔
امام شعبی رحمہ اللہ نے روایت کیاہے کہ حضرت ابو بکر صدیق صکو اﷲ تعالیٰ نے چار ایسی خصوصیات سے متصف فرمایا جن سے کسی اور کو سرفراز نہیں فرمایا۔
Page 18 of 134

