Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 19 of 134
اوّل: آپ کا نام صدیق رکھا۔
دوم : آپ غار ثور میں محبوبِ خدا اکے ساتھی رہے۔
سوم: آپ ہجرت میں حضور ﷺ کے رفیقِ سفر رہے۔
چہارم: حضور ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں ہی آپ کو صحابہ کی نمازوں کا امام بنا دیا۔
آپ کی ایک اورخصوصیت یہ ہے کہ آپ کی چار نسلوں نے صحابی ہونے کا شرف پایا۔ آپ صحابی، آپ کے والد ابو قحافہ صحابی ، آپ کے بیٹے عبدالرحمٰن صحابی اور ان کے بیٹے ابو عتیق محمد بھی صحابیث۔()
فضائلِ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ ، قرآن میں:
1۔ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ ۔()
’’ آپ دو میں سے دوسرے تھے ، جب وہ دونوں (یعنی حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر ص)نماز میں تھے ، جب (حضور ﷺ ) اپنے یار سے فرماتے تھے، غم نہ کر ، بیشک اﷲ ہمارے ساتھ ہے تو اﷲ نے اس پر اپنی تسکین نازل فرمائی‘‘۔
صدرُالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہلکھتے ہیں : ’’حضرت ابو بکر صدیقص کی صحابیت اس آیت سے ثابت ہے۔ حسن بن فضل نے فرمایا، جو شخص حضرت صدیق اکبر صکی صحابیت کا انکار کرے وہ نص قرآنی کا منکر ہو کر کافر ہوا‘‘۔()
مرزا مظہر جانِ جاناں رحمہ اللہ ’’ اِنَّ الله مَعَنَا‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں،
’’ حضرت صدیق اکبر صکے لیے یہی فضیلت کافی ہے کہ حضور ﷺ نے ان کے لیے بغیر کسی فرق کے، اﷲ تعالیٰ کی اس معیت کو ثابت کیا جو انہیں خود حاصل تھی ۔ جس نے سیدنا ابوبکرص کی فضیلت کا انکار کیا اس نے اس آیت کریمہ کا انکار کیا اور کفر کا ارتکاب کیا‘‘۔()
’’سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ‘‘ کی تفسیر میں حضرت عبداﷲبن عباس ص فرماتے ہیں کہ ’’ یہ تسکین حضرت ابوبکرص پر نازل ہوئی کیونکہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تو سکینت ہمیشہ ہی رہی تھی‘‘۔()
2۔ ابن عساکررحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے سلسلے میں حضرت ابوبکر ص کے سوا تمام مسلمانوں پر عتاب فرمایا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا آیت کریمہ کے آغاز میں ہے۔
اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ()
’’ اگر تم محبوب ا کی مدد نہ کرو تو بیشک اﷲ نے ان کی مدد فرمائی، جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا(ہجرت کے لیے)‘‘۔
امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ آیت اس دعوے کی دلیل ہے کہ رب تعالیٰ نے سیدنا ابوبکرص کو اس عتاب سے مستثنیٰ فرمایا ہے۔ ()
3۔ حضرت انس صسے روایت ہے کہ جب آیت اِنَّ الله وَ مَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیقص نے عرض کی ، یا رسول اﷲ ﷺ ! اﷲ تعالیٰ جو فضل وشرف بھی آپ کو عطا فرماتا ہے تو ہ0م نیازمندوں کو بھی آپ کے طفیل میں نوازتاہے۔ اسی وقت اﷲتعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓىٕكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِؕ-وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا(۴۳)()
’’وہی ہے کہ درود بھیجتاہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے‘‘۔ (کنزالایمان) ()
4۔ وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۳۳)۔()
’’ اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی، یہی ڈر والے ہیں‘‘۔
بزاروابن عساکررحمہما اللہ نے اس آیت کے شان نزول کے متعلق روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی صنے اس طرح ارشادفرمایا، ’’قسم ہے اُس رب کی جس نے حضرت محمد ا کو رسول بناکر بھیجا اور حضرت ابوبکرص سے اس رسالت کی تصدیق کرائی‘‘۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔()
Share:
keyboard_arrow_up