حضرت علی صسے مروی ہے کہ حق لیکر آنے والے سے مراد رسول کریم ﷺ اور تصدیق کرنے والے سے مراد حضرت ابوبکرصدیقص ہیں۔ حضرت ابوہریرہص سے بھی یہی مروی ہے۔()
شیعہ مذہب کی مستند تفسیر مجمع البیان میں بھی یہی تفسیر منقول ہے۔()
5۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبّہٖ جَنَّتٰنِ ()
’’اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے،اس کے لیے دو جنتیں ہیں‘‘۔
ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے روایت کی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیقص کے حق میں نازل ہوئی۔ ()
6۔ وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ﳚ-وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-۔ ()
’’ اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اﷲ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی ، اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزرکریں۔
یہ آیت حضرت صدیق اکبر صکے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں کے ساتھ موافقت کرنے پر اپنے خالہ زاد بھائی مسطح صکی مالی مدد نہ کرنے کی قسم کھائی جو بہت نادار و مسکین بدری صحابی تھے۔ آپ نے اس آیت کے نزول پر اپنی قسم کا کفارہ دیا اور ان کی مالی مدد جاری فرمائی۔ صدرُالافاضل رقمطراز ہیں ،’’ اس آیت سے حضرت صدیق اکبرصکی فضیلت ثابت ہوئی، اس سے آپ کی علوشان ومرتبت ظاہر ہوئی کہ اﷲتعالیٰ نے آپ کو ابوالفضل (فضیلت والا) فرمایا‘‘۔()
7۔ ایک مرتبہ یہودی عالم فخاص نے سیدنا ابوبکرصسے کہا اے ابوبکر! کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہمارا رب ہمارے مالوں میں سے قرض مانگتا ہے، مالدار سے قرض وہی مانگتاہے جو فقیر ہو، اگر تم سچ کہتے ہو تو پھر اﷲتعالیٰ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ حضرت ابوبکرص اس کی گستاخانہ گفتگو سن کر غضبناک ہوئے اور اس کے منہ پر زوردار تھپڑ مارا اور فرمایا ، اگر ہمارے اورتمہارے درمیان صلح کا معا ہدہ نہ ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا۔ فخاص نے بارگاہ نبوی ا میں جا کر سیدنا ابوبکر صکی شکایت کی۔ آپ نے اس کی گستاخانہ گفتگو بیان کردی ۔ فخا ص نے اس کا انکار کردیا تو اﷲتعالیٰ نے سیدنا ابوبکر صکی تصدیق کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی۔
لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُۘ()
’’بیشک اﷲنے سنا جنہوں نے کہا کہ اﷲمحتاج ہے اور ہم غنی‘‘۔
8۔ وَّ اتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّۚ۔()
’’ اور اس کی راہ چل جو میر ی طرف رجوع لایا‘‘۔
حضرت ابن عباسص کا ارشاد ہے کہ یہ آیت سیدناابوبکر صدیقص کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ جب وہ اسلام لائے تو حضرت عثمان، طلحہ، زبیر ، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمٰن بن عوف ثنے ان کی رہنمائی کے سبب اسلام قبول کیا۔ ()
9۔ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰)()
تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
یہ آیت حضرت ابوبکرصدیقص کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ آپ سب سے پہلے ایمان لائے اور سب سے پہلے اﷲ کی راہ میں مال خرچ کیا۔()
Page 20 of 134

