Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 21 of 134
قاضی ثناء اﷲرحمہ اﷲ فرماتے ہیں، یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکرص تمام صحابہ سے افضل اور صحابہ کرام تمام لوگوں سے افضل ہیں کیونکہ فضیلت کا دارومداراسلام قبول کرنے میں سبقت لے جانے ، مال خرچ کرنے اورجہاد کرنے میں ہے۔ جس طرح آقا و مولیٰا کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ جس نے اچھا طریقہ شروع کیا تو اسے اسکا اجر اور اس پر عمل کرنے والوں کا اجربھی ملے گا جبکہ عمل کرنے والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔()
علماء کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر صسب سے پہلے اسلام لائے اور آپ کے ہاتھ پر قریش کے معززین مسلمان ہوئے۔ راہ خدا میں مال خرچ کرنے والوں میں بھی سب سے آگے ہیں۔ کفار سے مصائب برداشت کرنے والوں میں بھی آپ سب سے پہلے ہیں۔()
10۔ وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ(۱۷) الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ(۱۸) وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ(۱۹) اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ(۲۰) وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠(۲۱) ()
’’اور اس (جہنم )سے بہت دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے ، صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے اور بے شک قریب ہے کہ وہ (اپنے رب سے)راضی ہو گا‘‘۔
اکثر مفسرین کا اتفاق ہے یہ آیات مبارکہ حضرت ابو بکر صدیق صکی شان میں نازل ہوئیں۔()
ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے حضرت عروہ صسے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکرص نے سات غلاموں کو اسلام کی خاطر آزاد کیا۔اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔()
صدرُالافاضل رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ جب حضرت صدیق اکبرصنے حضرت بلال ص کو بہت گراں قیمت پر خرید کر آزاد کیا تو کفار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا ،بلا ل کا ان پر کوئی احسان ہو گا جو انہوں نے اتنی قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا ۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ظاہر فرما دیا گیا کہ حضرت صد یق اکبر صکا یہ فعل محض اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے، کسی کے احسان کا بدلہ نہیں۔()
قاضی ثناء اﷲپانی پتی رحمہ اللہ آخری آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ،’’یہ آیت حضرت ابوبکر صدیقص کے حق میں اس طرح ہے جس طرح حضور ﷺ کے حق میں یہ آیت ہے، وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ()
’’اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے‘‘۔
فضائلِ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ احادیث میں:
1۔ حضرت ابو سعید خدری ص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا،بیشک اپنی صحبت اورمال کے ساتھ سب لوگوں سے بڑھ کر مجھ پر احسان کرنے والا ابوبکر ہے۔ اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلامی اخوت و موّدت تو موجود ہے ۔آئندہ مسجد میں ابوبکر کے دروازے کے سوا کسی کا دروازہ کھلا نہ رکھا جائے۔()
2۔ دوسری روایت میں یہ ہے کہ ابوبکر کی کھڑکی کے علاوہ (مسجد کی طرف کھلنے والی) سب کھڑکیاں بند کر دی جائیں۔()
سرکارِ دوعالم انے اپنے وصال سے دو تین دن قبل یہ بات ارشاد فرمائی۔ اس بناء پر شارحین فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں سیدنا ابوبکرص کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور دوسروں کی گفتگو کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔()
3۔ حضرت عبدﷲبن مسعود صسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا،اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں اور تمہارے اِس صاحب کو اﷲ تعالیٰ نے خلیل بنایا ہے۔()
خلیل سے مراد ایسا دِلی دوست ہے جس کی محبت رگ وپے میں سرایت کر جائے اور وہ ہر راز پر آگاہ ہو، حضوراکرم ﷺ نے ایسا محبوب صرف اللہ تعالیٰ کو بنایا۔رب تعالیٰ نے بھی آپ کو اپنا ایسا محبوب وخلیل بنایا ہے کہ آپ کی خلّت سیدنا ابراہیم ں کی خلّت سے زیادہ کامل اور اکمل ہے۔()
Share:
keyboard_arrow_up