Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 69 of 134
77۔ حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰا کے سامنے حسنین کریمین کشتی لڑ رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے، حسن ! جلدی کرو۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہانے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! آپ صرف حسن ہی کو ایسے کیوں فرما رہے ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا، کیونکہ جبریل امین، حسین کو ایسا کہہ کر حوصلہ دلا رہے ہیں۔()
78۔ حضرت ابوہریرہ صفرماتے ہیں کہ ہم آقا ومولیٰ اکے ساتھ سفر پر نکلے۔ راستے میں آپ نے حسنین کریمین کے رونے کی آواز سنی تو آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور رونے کا سبب پوچھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہانے بتایا کہ انہیں سخت پیاس لگی ہے۔حضور ﷺ پانی کے لیے مشکیزے کی طرف بڑھے تو پانی ختم ہو چکا تھا۔ آپ نے لوگوں سے دریافت کیا مگر (گرمی کی وجہ سے زیادہ استعمال کے باعث) کسی کے پاس پانی موجود نہ تھا۔آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا، ایک صاحبزادہ مجھے دیدو۔ انہوں نے پردے کے نیچے سے ایک شہزادہ دے دیا۔ آپ نے اسے سینے سے لگا لیا لیکن وہ سخت پیاس کی وجہ سے مسلسل رو رہا تھا۔ پس آپ انے اُس کے منہ میں اپنی مبارک زبان ڈال دی۔ وہ اسے چوسنے لگا یہاں تک کہ سیراب ہو گیا۔ پھر میں نے اس کے دوبارہ رونے کی آواز نہ سنی جبکہ دوسرا ابھی تک رورہا تھا۔ حضور ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاسے دوسرا صاحبزادہ لے کر اس کے منہ میں بھی اسی طرح اپنی مبارک زبان ڈال دی تو وہ بھی سیراب ہو کر خاموش ہو گیا۔ ()
79۔ حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰا نے ارشاد فرمایا،الہٰی ! میں اِن دونوں (یعنی حسن وحسین)سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اِن سے محبت فرما۔ ()
80۔ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ وہ رسول اﷲا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئیں ،یا رسول اﷲ ﷺ ! آج رات میں نے برا خواب دیکھا ہے۔ فرمایا، وہ کیا ہے؟ عرض کیا، آپ کے جسم انور کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھا گیا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ، تم نے اچھا خواب دیکھا ہے ۔ انشاء اﷲ فاطمہ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہو گی جو تمہاری گود میں ہوگا ۔ پس حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حسینص پیدا ہوئے اور وہ میری گود میں تھے جیسے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تھا ۔
ایک روز میں رسول اﷲ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تو رسول کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ میں عرض گزار ہوئی، یا رسول اﷲ ﷺ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا بات ہے؟ فرمایا، جبرئیل میرے پاس آئے تھے اور مجھے بتایا کہ عنقریب میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کرے گی۔ میں نے کہا، اِنہیں (یعنی حسین کو)؟ فرمایا، ہاں! اوروہ میرے پاس اس جگہ کی مٹی لائے جو سرخ ہے۔ ()
81۔ حضرت انس صسے روایت ہے کہ عبیداﷲ بن زیاد کے پاس حضرت حسین ص کا سرِ اقدس لاکر طشت میں رکھا گیا تو وہ اسے چھیڑنے لگا اوراُس نے آپ کے حسن وجمال پر نکتہ چینی کی ۔ حضرت انسص فرماتے ہیں، میں نے کہا ،’’ خدا کی قسم !یہ رسول اﷲا کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے ہیں‘‘۔ امامِ عالی مقام نے وسمہ کا خضاب کیا ہوا تھا ۔ ()
82۔ دوسری روایت میں ہے کہ میں ابن زیاد کے پاس تھا جب امام حسینص کا سرمبارک لایاگیا تو وہ ایک چھڑی ان کی ناک پر مارنے لگا اورطنزاً بولا، میں نے ایسا حسن والا نہیں دیکھا تو پھر انکا ذکر کیوں ہوتا ہے۔ میں نے کہا، تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ رسول اﷲا کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ ()
83۔ عبدالرحمٰن بن ابو نعم صسے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداﷲ بن عمرص سے احرام کے متعلق مسئلہ پوچھا۔ شعبہ نے کہا ، میرے خیال میں مکھی مارنے کے متعلق پوچھا تھا۔ حضرت ابن عمر صنے فرمایا،یہ عراق والے مجھ سے مکھی مارنے کے متعلق مسئلہ پوچھتے ہیں حالانکہ انہوں نے رسول اﷲ ﷺ کے نواسے کو شہید کردیا تھا جبکہ حضور ﷺ کا ارشادہے کہ یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up