67۔ حضرت ابن عباس صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰا حضرت حسن اور حضرت حسین کے لیے (خاص طور پر ) کلماتِ تعوذ کے ساتھ دَم فرماتے۔ آپ نے یہ ارشاد فرمایا، تمہارے جدِامجد یعنی ابراہیم ں بھی اپنے صاحبزادوں اسماعیلں و اسحاق ںکے لیے اِن کلمات کے ساتھ دَم کرتے تھے۔
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ وَّھَّامَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَّامَّۃٍ۔ ’’میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کے ذریعے ہر شیطان اور بلا سے اور ہر نظرِ بد سے پناہ مانگتا ہوں‘‘۔()
68۔ حضرت یعلیٰ بن مرہ ص سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔اﷲ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔ حسین میری اولاد میں سے ایک فرزند ہے۔()
69۔ حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ انے فرمایا، جس نے حسن اور حسین سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی۔اورجس نے حسن اور حسین سے بغض رکھا، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے بغض رکھا۔ ()
70۔ حضرت سلمان فارسی صسے روایت ہے کہ میں نے آقا ومولیٰ ا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، جس نے حسن اور حسین سے محبت کی،اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی،اُس سے اللہ تعالیٰ نے محبت کی اور جس سے اللہ نے محبت کی ،اُس نے اسے جنت میں داخل کردیا۔
اورجس نے حسن اور حسین سے بغض رکھا،اُس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا،وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہو گیا اور جو اللہ کے نزدیک مبغوض ہوا ، اللہ تعالیٰ نے اسے آگ میں داخل کردیا۔ ()
71۔ حضرت علی صسے روایت ہے کہ ایک بار رسول کریم ﷺ نے حسن اور حسین کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا،جس نے مجھ سے اور اِن دونوں سے محبت کی اور اِن کے والد اوراِن کی والدہ سے محبت کی، وہ قیامت میں میرے ساتھ ہو گا۔ ()
72۔ حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰا نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسینث کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا،جو تم سے لڑے گا میں اُس سے لڑوں گا اور جو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا یعنی جو تمہارا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے۔()
73۔ حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ ہم آقا ومولیٰ ا کے ساتھ نماز عشاء ادا کر رہے تھے۔ جب آپ سجدے میں گئے تو حسن اور حسین آپ کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے۔ جب آپ نے سجدے سے سر اٹھایا تو دونوں شہزادوں کو اپنے پیچھے سے نرمی کے ساتھ پکڑ کر نیچے بٹھا دیا۔ جب آپ دوبارہ سجدے میں گئے تو وہ پھر کمر مبارک پر سوار ہو گئے۔ یہاں تک کہ آپ نے نماز مکمل کر لی۔پھر آپ نے دونوں کو اپنے مبارک زانؤوں پر بٹھا لیا۔ ()
74۔ حضرت عبداللہ بن مسعود صسے روایت ہے کہ رسول اکرم ا نماز ادا فرما رہے تھے کہ اس دوران حضرت حسن اور حضرت حسین آپ کی کمر مبارک پر سوار ہو گئے۔ لوگوں نے ا ن کو منع کیا تو آقا کریم انے فرمایا، اِن کو چھوڑ دو، اِ ن پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ ()
75۔ حضرت انس صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ ا نماز کے سجدے میں ہوتے تو حسن یا حسین آکر آپ کی کمر مبارک پر سوار ہو جاتے اوراس وجہ سے آپ سجدوں کو طویل کر دیتے۔ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی، یا رسول اللہ ﷺ ! کیاآپ نے سجدے طویل کر دیے ہیں؟ ارشاد فرمایا، مجھ پر میرا بیٹا سوار تھا اس لیے مجھے اچھا نہ لگا کہ میں سجدوں سے اٹھنے میں جلدی کروں۔()
76۔ حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ اہمارے پاس تشریف لائے تو آپ کے مبارک شانوں پر حضرت حسن اور حضرت حسین سوار تھے۔ آپ دونوں شہزادوں کو باری باری چومنے لگے۔ ()
Page 68 of 134

