معدوم نہ تھا سایۂ شاہِ ثقلین
اس نور کی جلوہ گہ تھی ذاتِ حسنین
تمثیل نے اس سائے کے دو حصے کیے
آدھے سے حسن بنے آدھے سے حسین
56۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو رسول کریم ﷺکے مرضُ الوصال کے دوران آپ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ﷺ ! انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ آقا کریم انے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرأت اور سخاوت کا وارث ہے۔ ()
57۔ حضرت اسامہ بن زید ص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے اور حضرت حسنص کو پکڑا اور فرمایا، اے اﷲ ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول اکرم ا انہیں پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھالیتے اور حضرت حسن بن علیص کو دوسری رانِ مبارک پر۔ پھر یہ کہتے، اے اﷲ ! ان دونوں پر رحم فرما کیونکہ میں بھی ان پر مہربانی کرتا ہوں۔ ()
58۔ حضرت عبداللہ بن مسعود صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰا نے فرمایا، جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اِن دونوں یعنی حسن وحسین سے بھی محبت کرے۔ ()
59۔ حضرت ابن عباس ص سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ ا نے حسن بن علیص کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا تو ایک آدمی نے کہا ،اے لڑکے ! کیا خوب سواری پر سوار ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سوار بھی تو بہت خوب ہے۔ ()
60۔ حضرت عمر فاروق ص فرماتے ہیں کہ میں نے حسن و حسین کو آقا ومولیٰ اکے مبارک کندھوں پر سوار دیکھا تو اُن سے کہا، آپ کی سواری کتنی اچھی ہے!نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، یہ بھی تو دیکھو کہ سوار کتنے اچھے ہیں۔ ()
61۔ حضرت عقبہ بن حارث ص سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکرص نے نماز عصر پڑھی پھر باہر نکلے اور ان کے ساتھ حضرت علیص تھے ۔ حضرت ابوبکرص نے حضرت حسنص کو بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو اسے اپنے کندھے پر اٹھالیا اور فرمایا ، میرا باپ قربان ! تم نبی کریم ﷺ سے مشابہت رکھتے ہو اور علی سے مشابہت نہیں رکھتے جبکہ حضرت علیص ہنس رہے تھے ۔ ()
62۔ حضرت ابو سعید ص سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا ، حسن اور حسین دونوں جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۔ ()
63۔ حضرت ابن عمر ص سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم ا نے فرمایا، حسن اور حسین دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں ۔ ()
64۔ حضرت اسامہ بن زید ص سے روایت ہے کہ ایک رات میں کسی کام سے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔آقا ومولیٰ ا باہر تشریف لائے۔ آپ نے چادر میں کوئی چیزلی ہوئی تھی اور مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ وہ چیز کیا ہے ۔جب میں اپنے کام سے فارغ ہوگیا تو عرض گزار ہوا،میرے آقا!آپ نے کس چیز پر چادر لپیٹی ہوئی ہے؟ آپ نے چادر ہٹائی تو دیکھا کہ آپ کی دونوں رانوں پر حسن اور حسین موجود ہیں۔ فرمایا، یہ دونوں میرے بیٹے اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں ۔ اے اﷲ ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں پس تو بھی اِن سے محبت رکھ اور اُن سے بھی محبت رکھ جو ان دونوں سے محبت رکھیں۔ ()
65۔ حضرت انس صسے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ ا سے پوچھا گیا کہ اپنے اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا ، حسن اور حسین۔ آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاسے فرمایا کرتے ، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ دونوں کو سونگھا کرتے اور انہیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے ۔ ()
66۔ حضرت بریدہ ص سے روایت ہے کہ رسول ا ﷲ اخطبہ دے رہے تھے کہ اس دوران حسن اور حسین آگئے۔ ان کے اوپر سرخ قمیضیں تھیں اور وہ گرتے پڑتے چلے آرہے تھے تو رسول کریم ﷺمنبر سے اترے ، دونوں کو اٹھایا اور سامنے بٹھالیا ۔ پھر فرمایا، اﷲ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے، اَنَّمَاۤ اَمْوٰلُکُمْ وَ اَوْلٰدُکُمْ فِتْنَۃٌ ۙ۔’’ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں‘‘۔() میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا کہ گرتے پڑتے آرہے ہیں تو میں صبر نہ کرسکا اور اپنی بات چھوڑ کر ان دونوں کو اٹھالیا۔()
Page 67 of 134

