Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 66 of 134
47۔ حضرت ابو ہریرہ صسے روایت ہے کہ میں دن کے ایک حصہ میں رسول ا ﷲ ا کے ساتھ نکلا ،آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا، کیا بچہ یہاں ہے؟ یعنی حسنص۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ دوڑتے ہوئے آگئے یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے گلے سے لپٹ گئے۔ آقا ومولیٰ ا نے فرمایا، ’’اے اﷲ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور اس سے بھی محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے‘‘۔()
48۔ حضرت ابو ہریرہ صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے ،جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ ()
49۔ حضرت ایاس ص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اس سفید خچر کی لگام پکڑ کر چلا ہوں جس پر میرے آقا نبی کریم ﷺ اور حضرت حسن و حضرت حسین سوار تھے یہاں تک کہ وہ نبی کریم کے حجرۂ مبارکہ میں داخل ہو گئے۔ رسول کریم ﷺ آگے سوار تھے اور حسنین کریمین آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ ()
50۔ حضرت علیص فرماتے ہیں کہ جب حسن پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حمزہ رکھا اور جب حسین پیدا ہوا تو اس کا نام جعفر رکھا۔ مجھے آقا ومولیٰ انے بلا کر فرمایا، مجھے ان کے نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ میں نے عرض کی، اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ تو حضور نے ان کے نام حسن اور حسین رکھے۔ ()
51۔ حضرت ابوبکرہ صسے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ رسول اﷲ ﷺ منبر پر جلوہ افروز تھے اور حسن ص آپ کے پہلو میں تھے کبھی آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوتے اور کبھی ان کی طرف ،پھر آپ نے ارشاد فرمایا ،
’’ میرا یہ بیٹا حقیقی سردار ہے اور اس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بہت بڑے گروہوں میں صلح کروادے گا‘‘۔ ()
52۔ حضرت ابن عباس صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا،کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماموں اور خالہ کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسین ہیں۔ان کے نانا اللہ تعالیٰ کے رسول ا، ان کی نانی خدیجہ بنت خویلد،ان کی والدہ فاطمہ بنت رسولُ اللہ، ان کے والد علی بن ابی طالب، ان کے چچا جعفر بن ابی طالب، ان کی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب، ان کے ماموں قاسم بن رسولُ اللہ اور ان کی خالہ اللہ کے رسول کی بیٹیاں زینب، رقیہ اور ام کلثوم ہیں ث۔ان کے نانا، نانی، والد، والدہ،چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ سب جنت میں ہونگے اور وہ دونوں یعنی حسن و حسین بھی جنت میں ہونگے۔ ()
53۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے حسن اور حسین کی پیدائش کے ساتویں دن اُن کی طرف دو دو بکریاں عقیقہ میں ذبح کیں۔ ()
54۔ حضرت انس ص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ حسن ص سے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا اور حضرت حسین صکے متعلق بھی فرمایا کہ وہ رسول اﷲ ﷺ سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔ ()
55۔ حضرت علی ص فرماتے ہیں کہ حضرت حسن سینے سے سر تک رسول اﷲ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں اورحضرت حسین سینہ سے نیچے (پاؤں تک)نبی کریم ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ ()
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ نے خوب فرمایا:
Share:
keyboard_arrow_up