17۔ حضرت عمرو بن ابی سلمہ صسے روایت ہے کہ آیت کریمہ اِنَّمَا یُرِیْدُ الله لِیُذْهبَ عَنْکُمُ الرِّجْس.. الخ حضرت امِ سلمہرضی اﷲ عنہا کے کاشانۂ اقدس میں نازل ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت علیث کو بلا کر چادر اوڑھائی پھر دعا مانگی، اے اللہ ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں، ان سے گندگی دور رکھ اور انہیں خوب پاک وصاف بنا دے۔ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ آپ نے فرمایا، تم اپنی جگہ پر ہو اور تم خیر کی جانب ہو۔ ()
انہی احادیث کی بنا پر ان نفوسِ قدسیہ کو پنجتن پاک کہا جاتا ہے۔
18۔ حضرت انس بن مالک صسے روایت ہے کہ چھ ماہ تک نبی کریم ﷺ کا یہ معمول رہا کہ جب نماز فجر کے لیے نکلتے اور حضرت فاطمہرضی اﷲ عنہا کے دروازے کے پاس سے گزرتے تو فرماتے، اے اہلِ بیت! نماز قائم کرو۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ الله لِیُذْهبَ عَنْکُمُ الرِّجْس..الخ ۔’’بے شک اﷲ یہ چاہتا ہے کہ اے گھر والو! کہ تم سے گندگی دور کردے اور تمہیں خوب پاک صاف کردے‘‘۔()
19۔ حضرت سعد بن ابی وقاص صسے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ، فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَنَا وَاَبْنَاءَکُمْ … الخ۔’’ فرما دو ، آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو‘‘۔ تو رسول کریم ﷺنے علی، فاطمہ، حسن اور حسین کو بلایا اور فرمایا، اے اللہ ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔ث()
20۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج آپ کے پاس جمع تھیں کہ فاطمہرضی اﷲ عنہا آگئیں ان کا چلنارسول اﷲ ﷺ کے چلنے سے مختلف نہیں تھا۔ جب آپ نے انہیں دیکھا تو فرمایا، میری بیٹی خوش آمدید۔ پھر انہیں بٹھایا اور ان کے ساتھ سرگوشی فرمائی تو وہ بہت زیادہ روئیں۔ اُن کا غم دیکھ کرآپ نے دوبارہ سرگوشی فرمائی تو وہ ہنسنے لگیں ۔ میں نے پوچھا ،آقا ومولیٰ انے تم سے کیا سرگوشی فرمائی تھی؟ کہا، میں رسول اﷲ ا کے راز کو فاش نہیں کرسکتی۔
جب حضور ﷺ کا وصال ہوا تو میں نے کہا،میں تمہیں اس حق کا واسطہ دیتی ہوں جو میرا تم پر ہے کہ مجھے وہ بات بتادو۔کہا، ہاں اب بتادیتی ہوں۔ پہلی دفعہ جب آپ نے مجھ سے سرگوشی فرمائی تو بتایا کہ جبرئیل میرے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اس سال دو مرتبہ کیا ہے، میرے خیال میں میرا آخری وقت قریب آگیا ہے لہٰذا اﷲ تعالیٰ سے ڈرنا اور صبر کرناکیونکہ میں تمہارے لیے اچھا پیش رو ہوں۔ یہ سن کر میں روئی۔ آپ نے جب میری پریشانی ملاحظہ فرمائی تو دوبارہ سرگوشی کی اور ارشاد فرمایا،
’’ اے فاطمہ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم ایمان والی عورتوں کی سردار ہو یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو‘‘ ۔ ()
21۔ آپ ہی سے دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے سرگوشی فرمائی کہ اسی مرض میں میرا وصال ہو جائے گا تو میں رونے لگی۔ پھرآپ نے سرگوشی فرماتے ہوئے مجھے بتایا کہ میرے اہلِ بیت میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملوگی، تو میں ہنس پڑی۔ ()
22۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہاسے بڑھ کر کسی کو عادات واطوار اور نشست وبرخاست میں رسول کریم ﷺ سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا۔ ()
23۔ حضرت ابن عمرصسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰا جب سفر کا ارادہ فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے مل کر سفر پر روانہ ہوتے اور جب سفر سے تشریف لاتے تو بھی سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آتے۔ آپ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے فرماتے، میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔()
Page 63 of 134

