Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 62 of 134
7۔ آقا ومولیٰ انے فرمایا، اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! ہم اہلِ بیت سے کوئی بغض نہ رکھے ورنہ اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل فرمائے گا۔()
8۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اور میری اولاد اُسے اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں،اور اُسے مجھ سے اپنی ذات سے زیادہ اور میری اولاد سے اپنی اولاد کی بنسبت زیادہ محبت نہ ہو جائے۔()
9۔ حضرت ابوذرص سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ انے فرمایا، میرے اہلِ بیت کو اپنے درمیان وہ جگہ دو جو جسم میں سر کی اور سر میں آنکھوں کی جگہ ہے اور سر آنکھوں ہی سے ہدایت پاتا ہے۔ ()
10۔ رسول کریم ﷺنے فرمایا، اللہ تعالیٰ کے لیے تین عزتیں ہیں۔جو ان کی حفاظت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے دین ودنیا کے معاملے کی حفاظت فرمائے گا اور جو ان کی حفاظت نہیں کرے گااللہ تعالیٰ اس کے دین ودنیا کی حفاظت نہیں فرمائے گا۔صحابہ کرام نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کیا ہیں؟ فرمایا، اسلام کی عزت، میری عزت اور میرے قرابت داروں کی عزت۔()
11۔ حضرت علی صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ انے فرمایا، تم میں پلِ صراط پر سب سے زیادہ ثابت قدم وہ ہو گا جو میرے اہلِ بیت اور میرے صحابہ سے زیادہ محبت رکھتا ہو گا۔ ()
12۔ سید عالم ، نورِ مجسم انے فرمایا، میرے اہلِ بیت حوضِ کوثر پر آئیں گے اور میری امت میں سے اُن سے محبت کرنے والے بھی اُن کے ساتھ ایسے ہوں گے جیسے دو انگلیاں باہم قریب ہوتی ہیں۔
اس حدیث کی تائید بخاری ومسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ ’’جو جس سے محبت کرتا ہے وہ اسی کے ساتھ ہو گا‘‘۔()
13۔ حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے ،حضور ﷺ نے فرمایا، تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو میرے بعد میرے اہلِ بیت کے لیے بہتر ہو گا۔ ()
14۔ سرکارِ دوعالم ا نے ارشاد فرمایا، جس نے میرے اہلِ بیت پر ظلم کیا اور مجھے میری اولاد کے بارے میں اذیت دی، اُ س پر جنت حرام کر دی گئی۔ ()
15۔ حضرت ابوذرص نے کعبہ کا دروازہ پکڑے ہوئے فرمایا ، میں نے نبی کریم ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے،
’’ خبردار ہو جاؤ ! تم میں میرے اہل بیت کی مثال نوح ںکی کشتیجیسی ہے جو اس میں سوار ہو ا،وہ نجات پا گیا اور جو پیچھے رہا وہ ہلاک ہوگیا‘‘۔ ()
کتاب کے آغاز میں یہ حدیث بیان ہوچکی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا، ’’میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے‘‘۔ اس حدیث میں صحابہ کرام کو آسمانِ ہدایت کے ستارے فرمایا اور مذکورہ بالا حدیث میں اپنے اہلِبیت کو کشتی کی مثل قرار دیا۔ گویا منزل پر پہنچنے کے لیے اہلبیت اطہار کی محبت کی کشتی میں سوار ہونا بھی ضروری ہے اور منزل کے حصول کے لیے ستاروں سے راہنمائی لینا بھی ضروری ہے۔الحمدللہ! اہلسنت ہی اہلبیت اطہار کی محبت کی کشتی میں سوار ہوکر نجومِ ہدایت یعنی صحابہ کرام سے روشنی لیتے ہوئے منزلِ مقصود حاصل کرتے ہیں۔
اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسولُ اللہ کی
فضائلِ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا :
16۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک روز صبح کے وقت باہر تشریف لے گئے۔ آپ کے اوپر سیاہ اُون سے بُنی ہوئی چادر تھی ۔ حضرت حسن ص آئے توآپ نے اُنہیں اس چادر میں داخل کرلیا ۔ پھر حضرت حسینص آئے تواُنہیں بھی اس چادر میں داخل کرلیا، پھر حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا آئیں تو انہیں بھی داخل کرلیا ،پھر حضرت حضرت علیص آئے توآپ نے اُنہیں بھی اس چادر میں لے لیا۔ پھر فرمایا، ’’بے شک اﷲ یہ چاہتا ہے کہ اے گھر والو! تم سے گندگی دور کردے اور تمہیں خوب پاک صاف کردے‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up