Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 61 of 134
آبِ تطہیر سے جس میں پودے جمے
اُس ریاضِ نجابت پہ لاکھوں سلام
خونِ خیرُ الرُسُل سے ہے جن کا خمیر
اُن کی بے لوث طینت پہ لاکھوں سلام
فضائلِ اہلِ بیت ، احادیث میں:
بعض جہلاء کو یہ کہتے سنا گیا کہ امام بخاری اور امام مسلم وغیرہ نے اہلبیتِ اطہار کی فضیلت میں کوئی حدیث روایت نہیں کی ہے ،حالانکہ یہ عظیم بہتان ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہنے کتابُ المناقب میں’’مناقبِ علی بن ابی طالب‘‘ کے عنوان سے سات حدیثیں، ’’مناقب قرابۃِ رسولِ اللہ ومنقبۃ فاطمۃ “ کے عنوان سے تین حدیثیں اور ’’مناقبِ الحسن والحسین‘‘ کے عنوان سے آٹھ حدیثیں روایت کیں ہیں۔
اسی طرح امام مسلم رحمہ اللہنے سیدنا علی کے فضائل کے باب میں تیرہ احادیث، سیدہ فاطمہ کے فضائل کے باب میں آٹھ احادیث اور حسنین کریمین ثکے فضائل کے باب میں چھ احادیث روایت کیں ہیں۔ ان احادیث کے علاوہ بھی انہوں نے اپنی کتب میں ان نفوسِ قدسیہ کے متعلق بیشمار احادیث روایت کیں ہیں۔
اہلبیت کرام کے فضائل پر مبنی اکثر احادیث اس کتاب میں تحریرکی جاچکیں اور بعض اب تحریر کی جارہی ہیں۔چونکہ اہلبیت اطہار میں ازواجِ مطہرات کو خاص مقام حاصل ہے اس لیے ان کی فضیلت میں مخصوص آیات اور احادیث علیحدہ سے بیان ہوں گی۔
1۔ حضرت زید بن ارقم ص سے روایت ہے کہ ایک روز رسولُ اﷲ ا ہمیں خم نامی چشمے پر خطبہ دینے کھڑے ہوئے جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے تو اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت فرمائی پھر ارشاد فرمایا، اے لوگو! میں بشر ہوں ۔ قریب ہے کہ اﷲ کا قاصد میرے پاس آئے اور میں اسے قبول کرلوں ۔میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑے جاتا ہوں جن میں سے پہلی اﷲ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے۔ پس اﷲ کی کتاب کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔آپ نے اﷲ کی کتاب کی طرف ابھارا اور اس کی ترغیب دی ۔
پھر فرمایا ، دوسرے میرے اہلِ بیت ہیں اور میں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں تمہیں اﷲ یاد دلاتا ہوں ،میں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں تمہیں اﷲ یاد دلاتا ہوں،میں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں تمہیں اﷲ یاد دلاتا ہوں۔()
2۔ حضرت جابرص سے روایت ہے کہ میں نے رسولُ اﷲا کو حج کے موقع پر عرفات میں دیکھا کہ اپنی قصواء اونٹنی پر خطبہ دے رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا ،اے لوگو! میں تم میں ایسی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر انہیں پکڑے رہوگے تو گمراہ نہیں ہوگے، وہ اﷲ کی کتاب اور میری عترت یعنی اہلِ بیت ہیں۔()
3۔ حضرت زید بن ارقم صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، میں تم میں ایسی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہوگے تو میرے بعد گمراہ نہیں ہوگے۔ ان میں سے ایک دوسری سے بہت عظمت والی ہے یعنی اﷲ کی کتاب جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے اور میرے اہلِ بیت۔اور یہ دونوں ہرگز الگ نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھے ملیں گے ۔ پس خیال رکھنا کہ تم میرے بعد ان سے کیسا سلوک کرتے ہو۔ ()
4۔ حضرت ابن عباس صسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ، اﷲ تعالیٰ سے محبت رکھو کہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے اوراﷲ سے محبت رکھنے کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو، اور مجھ سے محبت رکھنے کی وجہ سے میرے اہل بیت سے محبت رکھو ۔ ()
5۔ حضرت علی ص فرماتے ہیں، اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھاؤ۔ اپنے نبی ا کی محبت، آپ کے اہلِ بیت کی محبت اور قرآن مجید پڑھنا۔ ()
6۔ حبیبِ کبریا انے ارشاد فرمایا، اے بنو عبدالمطلب! میں نے تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعاکی ہے کہ وہ تمہارے دیندار کو استقامت،بے علم کو علم اور بے راہ کو ہدایت دے۔ اگر کوئی شخص رکن اور مقامِ ابراھیم کے درمیان چلا جائے اور نماز پڑھے اور روزے رکھے ۔پھر وہ اہل بیت سے بغض رکھتے ہوئے مر جائے تو وہ آگ میں داخل کیا جائے گا۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up