حضور اکرم اکا ارشاد ہے، (قیامت میں)ہر شخص سے چار چیزوں کے متعلق پوچھا جاتا ہے۔اپنی عمر کس کام میں صَرف کی، اپنے جسم کوکس کام میں استعمال کیا، مال کیسے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور ہم اہلِ بیت کی محبت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ ()
اہلبیت اطہار کی محبت سے متعلق احادیثِ مبارکہ کا ذکر آئندہ صفحات میں آئے گا۔
8۔ وَمَا کَانَ الله لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ ۔ ()
’’اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو‘‘۔
علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، حضور ﷺ نے اپنے اہلبیت میں ان معنوں کے پائے جانے کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ وہ بھی نبی کریم ﷺ کی طرح زمین والوں کے لیے امان ہیں۔اس کے متعلق بہت سی احادیث ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ’’ستارے آسمان والوں کے لیے امان ہیں اور میرے اہلبیت میری امت کے لیے امان ہیں‘‘۔امام احمد کی دوسری روایت میں ہے کہ جب ستارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان والے بھی ختم ہو جائیں گے اور جب میرے اہلبیت ختم ہو جائیں گے تو اہلِ زمین بھی ختم ہو جائیں گے۔ ()
9۔ وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی
’’اور بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا‘‘۔ ()
حضرت ثابت البنانیص فرماتے ہیں کہثُمَّ اھْتَدٰی سے مراداہلبیت کی طرف ہدایت پانے والا ہے۔ امام ابوجعفر محمد باقرص سے بھی یہی تفسیر مروی ہے۔
ابن سعد نے حضرت علی صسے روایت کیا ہے کہ مجھے آقا ومولیٰ انے یہ خبر دی ہے کہ جنت میں پہلے میں، حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین کریمین داخل ہوں گےث۔ میں نے عرض کی، ہم سے محبت کرنے والوں کا کیا ہو گا؟ فرمایا، وہ تمہارے پیچھے آئیں گے۔ ()
یہ حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے کہ مومن کے دل میں حضرت علیص کی محبت اور سیدنا ابوبکرص وعمرص کا بغض جمع نہیں ہو سکتے۔اس ضمن میں علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ نے خوب لکھا ہے۔ فرماتے ہیں،وہ شخص اس قوم کی محبت کا کیسے گمان کرتا ہے جس نے کبھی ان کے اخلاق میں سے کسی وصف کو نہیں اپنایا اور نہ کبھی ان کے کسی قول پر عمل کیا ہے اور نہ کبھی ان کے کسی فعل کی پیروی کی ہے اور نہ ان کے افعال میں سے کسی چیز کے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ حقیقت میں یہ محبت نہیں بلکہ ائمہ شریعت وطریقت کے نزدیک بغض ہے جبکہ محبت کی حقیقت یہ ہے کہ محبوب کی اطاعت کی جائے اور نفس کی محبوب ومرغوب چیزوں کے مقابلے میں محبوب کی مرضی اور محبت کو ترجیح دی جائے نیز اس کے اخلاق وآداب سے ادب سیکھا جائے۔
خصوصاً حضرت علی صکا یہ ارشاد پیشِ نظر رہے کہ میری محبت اور حضرت ابوبکرص وحضرت عمرص کا بغض کسی مومن کے دل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں جو جمع نہیں ہو سکتیں۔ ()
10۔ وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی
’’اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے‘‘۔ ()
علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس صسے روایت کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی رضامیں سے یہ بھی ہے کہ آپ کے اہلبیت میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہو۔ امام حاکم رحمہ اللہنے بسندِ صحیح روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا،رب تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ میرے اہلبیت میں سے جو توحید و رسالت کا اقرار کر ے گا اور یہ بھی کہ میں نے رب تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دیا ہے، اسے وہ عذاب نہیں دے گا۔ حضور ﷺ کاارشاد ہے،میں نے یہ دعا کی ، الہٰی! میرے اہلبیت میں سے کسی کو جہنم میں نہ ڈالنا، تو اس نے میری یہ دعا قبول فرما لی۔ ()
Page 60 of 134

