معلوم ہوا کہ آل کا ذکر کیے بغیر درود پڑھنا کٹا ہوا درود ہے اور آل کے ذکر کے ساتھ پڑھنا پورا درود ہے جو کہ آقا کریم اکو پسند ہے۔()
4۔فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَنَا وَاَبْنَاءَکُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَۃَ الله عَلَی الْکَاذِبِیْنَ ۔()
’’تو ان سے فرمادو، آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے، اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں،اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں، پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں‘‘۔
اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب نجران کے عیسائی مناظرہ میں لاجواب ہو کر جھگڑنے لگے تو آقا ومولیٰ ا نے انہیں مباہلے کی دعوت دی جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ تین دن بعد عیسائی بڑے بڑے پادریوں کو ساتھ لے کر آئے۔جبکہ نبی کریم ﷺ اس شان سے تشریف لائے کہ آپ کی گود میں امام حسینص تھے اور امام حسنص آپ کا دست مبارک پکڑے ہوئے تھے، خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور شیرِخدا سیدنا علیص دونوں آپ کے پیچھے تھے اور آقا ومولیٰا ان سے فرمارہے تھے، جب میں دعا کروں تو تم آمین کہنا۔
یہ منظر دیکھ کر ان کا سب سے بڑا پادری بولا، بیشک میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ لوگ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ پہاڑ اس کی جگہ سے ہٹا دے تو وہ پہاڑ اس کی جگہ سے ہٹا دے گا۔ خدا کے لیے ان سے مباہلہ نہ کرو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے اور قیامت تک زمین پر کوئی عیسائی باقی نہ رہے گا۔پس انہوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی،
اے ابوالقاسم ! ہم آپ سے مباہلہ نہیں کرتے،آپ اپنے دین پر رہیں اور ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دیں۔ پھر انہوں نے جزیہ دینے پر صلح کر لی۔
آقا ومولیٰ ا نے فرمایا، خدا کی قسم! اگر وہ مباہلہ کرتے تو وہ سب بندر اور سُور بن جاتے اور ان کا جنگل آگ سے بھڑک اٹھتا اور نجران کے چرند پرند تک ہلاک ہو جاتے۔()
بعض کم فہم یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ کی چار بیٹیاں تھیں تو وہ مباہلے میں کیوں شریک نہ ہوئیں؟ جواب یہ ہے کہ مباہلہ ۱۰ ھ میں ہوا جبکہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہاکا وصال ۲ ھ میں، سیدہ زینب رضی اللہ عنہاکا وصال ۸ ھ میں اور سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا وصال ۹ ھ میں ہو چکا تھا۔دوسری بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کی چار بیٹیاں ہونا تو شیعہ فرقہ کی معتبر ترین کتاب اصولِ کافی سے بھی ثابت ہے ۔ ’’حضرت خدیجہ کے بطن سے حضور کی یہ اولاد پیدا ہوئی۔ بعثت سے پہلے قاسم، رقیہ، ام کلثوم اور بعثت کے بعد طیب، طاہر اور فاطمہ‘‘۔ رضی اللہ عنہم اجمعین ()
5۔سَلَامٌ عَلٰی اِلْیَاسِیْنَ۔’’سلام ہو الیاسین پر‘‘۔()
مفسرین کی ایک جماعت نے حضرت ابن عباس صسے روایت کیا ہے کہ اس سے مراد آل رسول ا پر سلام پڑھنا ہے اور کلبی رحمہ اللہنے بھی یہی کہا ہے جبکہ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد حضرت الیاس ںہیں۔حضرت ابن عباسص کا ارشاد ہے، نحن آل محمد الیاسین۔ ’’اِلیاسین ہم آلِ محمدا ہی ہیں‘‘۔()
6۔ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ الله جَمِیْعًا ۔’’اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر‘‘۔ ()
امام جعفر صادق ص اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں، نحن حبل اللہ الذی قال اللہ فیہ۔ ’’ہم اہلبیت وہ اللہ کی رسی ہیں جس کے بارے میں رب تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے‘‘۔ ()
7۔ وَقِفُوْھُمْ اِنَّھُمْ مَسْئُوْلُوْنَ ۔’’اور انہیں ٹھہراؤ، ان سے پوچھنا ہے‘‘۔ ()
حضرت ابوسعید خُدری صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا، وَقِفُوْھُمْ یعنی انہیں ٹھہراؤ کیونکہ ان سے حضرت علی ص کی محبت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہلکھتے ہیں، پوچھے جانے کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تبلیغِ رسالت پر جو اقرباء کی محبت طلب کی تھی، اس کے متعلق پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق حقِ موالات ادا کیا ہے یا اسے بیکار خیال کیا ہے۔ ()
Page 59 of 134

