حضرت ابن عباس صسے مروی ہے کہ وَمَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً نَزِدْ لَہٗ فِیْھَا حُسْنًا میں نیکیاں کرنے سے مراد آلِ رسول ا سے محبت کرنا ہے۔()
حضرت عمرو بن شعیبص سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا، ’’اس سے مراد رسول کریم ﷺ کی قرابت ہے‘‘۔()
جب امام حسینص کی شہادت کے بعد امام زین العابدین صکو قید کر کے دمشق لایا گیا تو ایک شامی نے کہا، خدا کاشکر ہے جس نے تمہیں قتل کرایا، تمہاری جڑ کاٹ دی اور تمہارا فتنہ ختم کیا۔ آپ نے اسے فرمایا، کیا تو نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی،
قُلْ لاَ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلاَّ الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی۔اس نے کہا، کیا وہ تم ہو؟ فرمایا، ہاں۔()
سیدنا ابوبکر صدیق صکا ارشاد گرامی ہے، اِرْقَبُوْا مُحَمَّدًا فِیْ اَھْلِ بَیْتِہٖ۔ ’’حضرت محمدا کا ان کے اہلِ بیت کے بارے میں لحاظ رکھو‘‘۔() یعنی حضور ﷺ کے اہلِ بیت کے حقوق اور مراتب کا خیال رکھو۔
صحیح بخاری ہی میں سیدنا ابوبکر صدیق ص کا یہ ارشاد موجود ہے جو آپ نے سیدنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا صسے فرمایا تھا،
’’اللہ تعالیٰ کی قسم ! رسول کریم ﷺکے قرابت داروں سے حسنِ سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے سلوک سے بھی زیادہ پیارا ہے‘‘۔()
حضرت عمر صنے حضرت عباسص سے یہ فرمایا،خدا کی قسم ! آپ کا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ اچھا لگا کیونکہ آپ کا اسلام رسولِ کریم ا کوخطاب کے اسلام لانے سے زیادہ محبوب تھا۔یہ روایت لکھ کر علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ آلِ رسول اور اہلِ بیت کے ساتھ وہی معاملہ رکھے جو سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کا ان کے ساتھ تھا یعنی اہلبیت اطہار کے ساتھ حسنِ ادب اور حسنِ عقیدت سے پیش آنا چاہیے۔()
آقا ومولیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے، ہم اہلِ بیت سے محبت لازم رکھو کیونکہ ہماری محبت والا جو شخص بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہو گا وہ ہماری شفاعت سے جنت میں جائے گا۔ اُس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! ہمارا حق پہچانے بغیر کسی بندے کا عمل اسے فائدہ نہیں دے گا۔()
صدرُ الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہٗ نے بھی بڑی پیاری بات کہی، فرماتے ہیں، اس آیت کی رو سے جب مسلمانوں میں باہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت واجب ہوئی تو سید عالمین اکے ساتھ کس قدر محبت فرض ہو گی …… حضور سیدِ عالم ا کی محبت اور حضور کے اقارب کی محبت دین کے فرائض میں سے ہے‘‘۔()
3۔ اِنَّ الله وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا()
’’بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اُس غیب بتانے والے (نبی) پر ، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو‘‘۔
حضرت کعب بن عُجرہ صفرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! ہمیں رب تعالیٰ نے آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو سکھا دیا ہے اب آپ یہ فرمائیں کہ ہم آپ پر درود کیسے پیش کریں؟ حضور ﷺ نے فرمایا، تم اس طرح درود بھیجو۔ اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید مجید الخ ۔’’اے اللہ ! درود بھیج حضرت محمد پر اور آلِ محمد پر … …‘‘۔ ()
اس سے معلوم ہوا کہ درود بھیجنے کے حکم کی تعمیل میں آقا ومولیٰ انے اپنے ساتھ اپنی آل کو بھی شامل فرماکر ان کی عظمت اُجاگر کی ہے۔آپ کا ایک ارشادِ گرامی ہے، مجھ پر کٹا ہوا درود نہ بھیجا کرو۔ عرض کی گئی، کٹا ہوا درود کیا ہے؟ ارشاد ہوا، صرف اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد کہنا۔ تم یوں کہا کرو، اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد وعلیٰ آل محمد۔
Page 58 of 134

