حق یہ ہے کہ جب آیتِ تطہیر نازل ہوئی تو ازواجِ مطہرات سے خطاب ہونے کی بناء پر یہ گمان تھا کہ کہیں کوئی اولادِ رسول ا کو اہلِ بیت سے خارج نہ سمجھے اس لیے آپ نے ان کے لیے خاص طور پر آیت تطہیر تلاوت کی اور دعا فرمائی۔
دوسری بات یہ ہے کہ نسب عام طور پر باپ کی طرف سے چلتا ہے۔ اس قاعدے پر حضرت علی صکی اولاد ، ابوطالب کی اولاد کہلانی چاہیے تھی نہ کہ اولادِ رسول ا ۔ لیکن رب تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو یہ خصوصیت عطا فرمائی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے حضرت علی صکی اولاد، اولادِ مصطفیا شمار ہوتی ہے۔
2۔ قُلۡ لَّاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیۡہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰیؕ وَ مَنۡ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْ لَہٗ فِیۡہَا حُسْنًا ؕ()
’’تم فرماؤ ، میں اس (تبلیغِ رسالت ) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔ اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں‘‘۔
حضرت عبداللہ بن عباس صسے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو حضرت سعید بن جُبیرصنے کہا،اس سے مراد حضور ﷺ کے قرابت دار ہیں۔ اس پر حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کے ساتھ حضور کی رشتہ داری نہ ہو، اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ مراد یہ ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت ہے تم اس کا لحاظ کرو۔ ()
اہلِ عرب اگرچہ خاندانی عصبیت کی بناء پر قرابت کا پاس رکھتے تھے لیکن نبی کریم ﷺ کو دعوتِ حق کی وجہ سے ایذادیتے تھے۔ اس پر آقا ومولیٰ انے فرمایا،میں تم سے کوئی اجرنہیں مانگتا، تم کم ازکم قرابت ہی کا لحاظ کرو اور مجھے ستانے سے باز رہو اور مجھے دعوتِ حق پہنچانے دو۔
حضرت ابن عباس صسے ایک اور قول یہ مروی ہے کہ جب آقا ومولیٰ امدینہ منورہ تشریف لائے اورانصار نے دیکھا کہ حضور کے ذمہ مصارف بہت ہیں اور مال کچھ بھی نہیں ہے تو انہوں نے بہت سا مال جمع کر کے بارگاہِ نبوی میں پیش کیا اور عرض گذار ہوئے، آقا کریم ! آپ کی بدولت ہمیں ہدایت ملی اور ہم نے گمراہی سے نجات پائی۔یہ مال آپ کی نذر ہے قبول فرمائیے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
حضور ﷺ نے وہ اموال واپس فرمادیے اور فرمایا، میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا مگر یہ کہ تم اپنے اقربا سے محبت کرو۔()
امام احمد رحمہ اللہنے بروایت مجاہدرحمہ اللہ ، حضرت ابن عباس صسے روایت کیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، میں نے تمہیں جو روشن دلیلیں اور جو ہدایت دی ہے، اس پر کسی اجر کا طلبگار نہیں سوائے اس کے کہ تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور اس کی اطاعت کے ذریعے اس کا قرب حاصل کر لو۔ حضرت حسن بصری صسے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔()
پس پہلے قول کے مطابق قرابت سے مراد حضور ﷺ کا قریش کو اپنی رشتہ داری یاد دلانا ہے۔دوسرے قول کے مطابق مسلمانوں کا اپنے اقربا سے اور باہم محبت کرنا ہے۔ تیسرے قول کے مطابق رب تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔چوتھا قول جو امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت سعید بن جبیرص سے روایت کیا، اس کے مطابق اَلْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی سے مراد حضور ﷺ کے قرابت دار یعنی اہلبیت اطہار سے محبت ہے۔
امام رازی رحمہ اللہنے تفسیر کبیر میں اور علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے تفسیر دُرِّمنثور میں اس آیت کے تحت یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول کریم ﷺسے اس آیت کے متعلق دریافت کیا گیا، یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کون لوگ ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟ ارشاد فرمایا: علی، فاطمہ اور ان کے بیٹے حسن و حسینث ۔اس حدیث کی سند پر علماء نے کلام کیا ہے جبکہ اس ضمن میں بعض دیگر روایات بھی موجود ہیں۔ امام ابن حجر مکی رحمہ اللہلکھتے ہیں، بزار اور طبرانی رحمہما اللہنے حضرت امام حسن صسے ایسے طرق سے بیان کیا ہے جن میں بعض حسن ہیں کہ امام حسن صنے ایک خطبہ میں فرمایا،میں ان اہلبیت میں سے ہوں جن سے محبت اوردوستی کرنا اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے اور فرمایا ہے، قُلْ لاَ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلاَّ الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی ۔()()
Page 57 of 134

