فضائلِ اہلبیت، قرآن میں:
اب اہلِ بیتِ اَطہار کی فضیلت وشان، قرآن کریم کی روشنی میں بیان کرتے ہیں۔
1۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ الله لِیُذْهبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا()
’’اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے‘‘۔
علماء فرماتے ہیں، رِجْس کا اطلاق گناہ، نجاست، عذاب اور عیوب پر ہوتا ہے اوررب تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے یہ تمام چیزیں اہلبیت کرام سے دور فرما دیں۔گویا اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے اہل بیت! اگرچہ تم پاک ہو مگر اللہ تعالیٰ تمہیں ایسا پاک کرنا چاہتا ہے کہ تمہیں پاکیزگی کااعلیٰ ترین مقام حاصل ہو جائے نیز رب کریم تمہاری پاکی کو ہمیشہ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
اس آیت سے پچھلی آیت کا آغاز یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ ()کے مبارک کلمات سے ہو رہا ہے جن کا ترجمہ ہے،’’اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو‘‘۔ اس آیت مقدسہ کا آغاز وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ کے الفاظِ مبارکہ سے ہوا ہے جن کا ترجمہ ہے، (اے نبی کی بیبیو!) ’’اپنے گھروں میں ٹھہری رہو‘‘۔()
اس آیت کریمہ کے بعد والی آیت ملاحظہ فرمائیے۔ اس کا آغاز یوں ہو رہاہے، وَاذْکُرْنَ مَایُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ () اس میں بھی ازواجِ مطہرات کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں تلاوت کی جانے والی آیات کو یاد کریں۔ گویا آیتِ تطہیر سے قبل بھی اور بعد میں بھی ازواجِ مطہرات ہی سے خطاب کیا گیا ہے۔ اس لیے ثابت ہوا کہ اس آیت کریمہ میں اہلِ بیت سے مراد رسول کریم ﷺکی ازواجِ مطہرات ہی ہیں۔
امام رازی رحمہ اللہآیۂ تطہیر کے تحت فرماتے ہیں کہ یہ آیت نبی کریم کی ازواجِ مطہرات کو شامل ہے کیونکہ آیتِ کریمہ کی روش اس پر دلالت کرتی ہے لہٰذا انہیں اس آیت سے خارج کرنا اور اس آیت کو ان کے سوا دوسرے لوگوں سے مخصوص کرنا صحیح نہیں۔
اہلِ بیت میں ازواجِ مطہرات اور نبی کریم ﷺ کی اولاد امجاد بھی ہے، امام حسن ،امام حسین اور حضرت فاطمہث بھی ان میں داخل ہیں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے معاشرت کی بناء پر حضرت علی مرتضیٰ صبھی اہل بیت میں سے ہیں۔ ()
بعض لوگ اہلِ بیت میں سے صرف حضرت علی و فاطمہ وحسن وحسین ث ہی کو مراد لیتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان نفوسِ قدسیہ کو اپنی چادر مبارک میں لے کر آیتِ تطہیر تلاوت فرمائی اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے یہ دعا فرمائی، اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلَاءِ اَھْلُ بَیْتِیْ ۔اے اللہ ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔ ()
علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ لکھتے ہیں، ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان کے ساتھ اپنے دیگر عزیز و اقارب اور ازواجِ مطہرات کو بھی اکٹھا کیا ۔اور حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے صحیح روایت میں ہے کہ میں نے عرض کی، یارسول اللہ ﷺ ! میں بھی اہلِ بیت میں سے ہوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا، بیشک اِنْ شَاءَ اللہ۔()
ابن جریر، ابنِ منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن مردویہ رحمہم اللہنے روایت کیا ہے کہ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے بھی اس چادر میں اپنا سر داخل کر کے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔ آپ نے دو بار فرمایا، ’’تم بھلائی پر ہو‘‘۔ پھر علامہ نبہانی رحمہ اللہ نے شیخ محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ نے حضرت سلمان فارسی صکے لیے فرمایا،’’ سلمان ہم میں سے، اہلِ بیت میں سے ہے‘‘۔ ()
Page 56 of 134

