155۔ حضرت انس ص سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ومولیٰ انے فرمایا، چار آدمیوں کی محبت کسی منافق کے دل میں جمع نہیں ہو سکتی اور نہ ہی مومن کے سوا کوئی ان چاروں سے محبت کر تا ہے، وہ چار افراد ابوبکر، عمر ،عثمان اور علی ہیں۔ث()
اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم
عام طور پر اہلِ بیت یعنی گھر والوں سے بیوی اور اولاد مراد ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں اہلِ بیت کا اطلاق بیویوں پر کیا گیا ہے۔
سورۃ ھود کی آیت ۷۲،۷۱ اور ۷۳ ملاحظہ کیجیے۔جب فرشتوں نے سیدنا ابراہیم ں کی بیوی کو حضرت اسحاقں کی ولادت کی خوشخبری دی تو انہوں نے تعجب سے کہا،کیا اس بڑھاپے میں میرے بچہ پیدا ہو گا؟ اس پرفرشتوں نے کہا،
اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ ۔()
’’کیا تم اللہ کے کام پر تعجب کرتی ہو ؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اے گھر والو!‘‘۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ بیویاں اہلِ بیت میں داخل ہیں۔سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۰ ملاحظہ فرمائیے۔جب حضرت موسیٰ ںاپنے اہل وعیال کے ہمراہ وادیٔ سینا سے گزرے تو کوہِ طور کی سمت انہیں آگ نظر آئی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،
اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَھْلِہِ امْکُثُوْا اِنِّیْ اٰنَسْتُ نَارًا ۔()
’’جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا، ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے‘‘۔
یہاں بھی ’’اہل‘‘ سے بیوی مراد ہے۔عام گفتگو میں بیوی ہی کو گھر والی کہتے ہیں۔
قرآن کریم سے ایک اور حوالہ پیشِ خدمت ہے۔حضرت موسیٰ ںجب شیرخوار بچے کے طور پر فرعون کے محل میں پہنچ جاتے ہیں اور فرعون کی بیوی کو ایسی عورت کی تلاش ہوتی ہے جواس بچہ کو دودھ پلا سکے تو حضرت موسیٰ ںکی بہن کہتی ہیں:
ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی اَھْلِ بَیْتٍ یَّکْفُلُوْنَہٗ لَکُمْ۔ ()
’’کیا میں تمہیں بتا دوں ایسے گھر والے کہ تمہارے اس بچہ کو پال دیں‘‘۔
صحیح مسلم میں مروی ہے کہ حضرت زید بن ارقم صسے پوچھا گیا، نبی کریم ﷺ کے اہلبیت کون ہیں؟ کیا آپ کی ازواج اہلِ بیت سے نہیں؟ انہوں نے فرمایا، آپ کی ازواج بھی اہلِ بیت میں سے ہیں لیکن آپ کے اہل بیت وہ بھی ہیں جن پرآپ کے بعد صدقہ حرام کر دیا گیا ۔ پوچھا گیا، وہ کون ہیں؟ فرمایا، وہ آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیںث۔ ()
آیات و احادیث کی روشنی میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اکابر علماء کرام کی تحقیق کا خلاصہ یوں بیان کیا ہے کہ بیت تین طرح کے ہیں۔
(۱) بیت نسب (خاندان)
(۲) بیت ولادت (اولاد)،
(۳) بیت سکنی (کاشانہ مبارکہ میں رہنے والے)۔
پس نسب کے اعتبار سے حضرت عبدالمطلب کی اولاد میں سے بنو ہاشم نبی کریم ﷺ کے اہلِ بیت ہیں۔ قریبی دادا کی اولاد کو بیت کہتے ہیں مثلاً کہا جاتا ہے کہ یہ فلاں بزرگ کا بیت یعنی خاندان ہے۔ سکونت و رہائش کے اعتبار سے ازواجِ مطہرات رسول کریم ﷺکے اہلِ بیت ہیں۔ حضرت زیدص اور ان کے بیٹے حضرت اسامہص بھی چونکہ آپ کے کاشانہ اقدس میں رہتے تھے اس لیے صاحبِ مشکوٰۃ نے مناقبِ اہلبیت کے باب میں ان کا بھی ذکر کیا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی اولادِمبارکہ ولادت کے اعتبار سے اہلِ بیت ہے۔ اگرچہ آقا ومولیٰ ا کی تمام اولاد آپ کے اہلِ بیت میں داخل ہے تاہم ان میں سے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین ث زیادہ عظمت و فضیلت کے ساتھ نمایاں شان کے حامل ہیں اس لیے جب لفظ اہلبیت بولا جاتا ہے تو ذہن انہی کی طرف جاتا ہے۔ ان نفوسِ قدسیہ کے فضائل ومناقب اور عظمت وکرامت کے بارے میں بیشمار احادیث وارد ہیں۔ ()
Page 55 of 134

