Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 53 of 134
141۔ حضرت براء بنِ عازب ص اور حضرت زید بن ارقم ص سے روایت ہے کہ جب رسول اﷲ ﷺ خمِ غدیر پر اترے تو حضرت علیص کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ، کیا تم جانتے نہیں کہ میں ہر صاحبِ ایمان سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ؟ لوگ عرض گزار ہوئے ،کیوں نہیں؟فرمایا، کیا تم جانتے نہیں کہ میں مسلمانوں کا اُن کی جان سے بھی زیادہ مالک ہوں؟عرض کیا، کیوں نہیں۔ آپ نے دعافرمائی: اے اﷲ ! جس کا میں دوست ہوں اس کے علی بھی دوست ہیں ۔ اے اﷲ! اس سے دوستی ر کھ جواِن سے دوستی رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو اِن سے دشمنی رکھے۔
اس کے بعدسیدنا عمرص اُن سے ملے توفرمایا، اے ابنِ ابو طالب ! آپ کو مبارک ہو کہ آپ ہر صبح و شام ہرایمان والے مرد و عورت کے دوست ہیں۔ ()
عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل
عشرہ مبشرہ کے فضائل، قرآن میں :
1۔وَالَّذِِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَرٰهمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ الله وَرِضْوَاناً ()
’’ اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل، تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے ، سجدے میں گرتے ، اللہ کا فضل و رضا چاہتے ۔
حضرت حسن بصری صسے روایت ہے کہ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗسے مراد حضرت ابوبکرص ہیں ۔ اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ سے مراد حضرت عمر صہیں ۔ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ سے مراد حضرت عثمان صہیں ۔ تَرٰهمْ رُکَّعًا سُجَّدًاسے مراد حضرت علی ص ہیں ۔ یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ الله وَرِضْوَانا سے مراد باقی عشرہ مبشرہ ہیں ۔()
2۔اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٰی اُولٰئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَ()
’’ بے شک وہ ہیں جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا ہے ،وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں ‘‘۔
ابو داؤد ، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت علیص نے خطبہ ارشاد فرمایا اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ، اور اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ جہنم سے دور رکھے جانے والوں میں سے ، میں (یعنی علی)ہوں اور ابوبکر، عمر، عثمان ، طلحہ ، زبیر ، سعید ، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف اور ابو عبیدہ بن جراح ثہیں ۔ پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو آپ اپنی چادر کھینچتے ہوئے کھڑے ہوئے اور اس سے اگلی آیت تلاوت کی ،لاَ یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَہَا وَهمْ فِیْ مَااشْتَہَتْ اَنْفُسُہُمْ خٰلِدُوْنَ()
ترجمہ : ’’اور اس(جہنم)کی بھنک نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے‘‘۔
عشرہ مبشرہ کے فضائل، احادیث میں :
اب وہ احادیث بیان ہونگی جن میں عشرہ مبشرہ میں سے کسی ایک صحابی کی یا ان میں سے بعض صحابہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
142۔ حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ حرا پہاڑ پر تھے،آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت عثمان، حضرت علی،حضرت طلحہ ،حضرت زبیر اور حضرت سعدبن ابی وقاص ثبھی تھے۔پہاڑ ہلنے لگا تو آقا ومولیٰ ا نے فرمایا، ٹھہر جا! تجھ پرصرف نبی ہے یا صدیق یا شہید۔ ()
143۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، ابوبکر جنت میں ہے، عمر جنت میں ہے، عثمان جنت میں ہے، علی جنت میں ہے، طلحہ جنت میں ہے،زبیر جنت میں ہے، عبدالرحمٰن بن عوف جنت میں ہے، سعد بن ابی وقاص جنت میں ہے، سعید بن زید جنت میں ہے، اور ابوعبیدہ ابن الجراح جنت میں ہے۔ث ()
144۔ حضرت عمر صنے فرمایا کہ خلیفہ بننے کا ان حضرات سے زیادہ کوئی مستحق نہیں جن سے وصال فرمانے تک رسولُ اﷲا راضی رہے۔ پھر آپ نے حضرت علی، حضرت عثمان،حضرت زبیر،حضرت طلحہ، حضرت سعد اورحضرت عبدالرحمٰن بن عوف ث کے نام لیے۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up