کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جو اس سے بہتر ہے جس کا تم نے سوال کیا؟ جب تم اپنے بستروں پر لیٹنے لگو تو ۳۴ بار اللہ اکبر، ۳۳ بار سبحان اللہ اور ۳۳ بار الحمد للہ پڑھ لیا کرو، یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔ ()
130۔ حضرت امِ سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ علی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی کے ساتھ ہے۔یہ دونوں حوضِ کوثر تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔ ()
131۔ امام طحاوی رحمہ اللہنے روایت کیا ہے کہ رسول کریم ﷺحضرت علی کی گود میں سر مبارک رکھے ہوئے تھے اور آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی۔ حضرت علی ص نے نمازِ عصر نہیں پڑھی تھی۔ اس دوران سورج غروب ہو گیا۔آقائے دوجہاں انے دعا فرمائی، یا اللہ ! علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھے اس لیے ان کے لیے سورج لوٹا دے۔تو سورج غروب ہونے کے بعد پھر طلوع ہو گیا۔ اس حدیث کو امام طحاوی نے صحیح قرار دیا ہے، قاضی عیاض مالکی نے بھی کتابُ الشفاء میں اسے صحیح کہا ہے۔علامہ ابن حجر مکی اور دیگر محدثین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔رحمہم اللہ تعالی ()
132۔ حضرت امِ سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا، جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی۔ اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ ()
133۔ حضرت علی صفرماتے ہیں کہ میں نے آقا ومولیٰ اسے شکایت کی کہ لوگ مجھ سے حسد کرتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا،کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں میں چوتھے تم ہو؟ وہ چار لوگ مَیں، تم، حسن اور حسین ہیں۔ ()
134۔ حضرت انس صسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا،
چار آدمیوں کی محبت کسی منافق کے دل میں جمع نہیں ہو سکتی اور نہ ہی مومن کے سوا کوئی ان چاروں سے محبت کرسکتا ہے وہ چار لوگ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی ہیں ث۔()
135۔ حضرت ابو سعید خُدری صفرماتے ہیں کہ ہم انصار کے لوگ منافقوں کو سیدنا علی صسے بغض رکھنے کی وجہ سے پہچان لیتے تھے۔ ()
136۔ حضرت بریدہ صسے روایت ہے کہ مجھ سے آقا ومولیٰ انے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مجھے چار لوگوں سے محبت رکھنے کا حکم دیا ہے اور مجھے یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت رکھتا ہے۔لوگوں نے عرض کی، ہمیں ان کے نام بتا دیجیے۔ آپ نے تین بار فرمایا، ان میں سے ایک علی ہیں۔ پھر فرمایا، دیگر تین لوگ ابوذر، مقداد اور سلمان ہیں۔ ()
137۔ حضرت جابرص سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا، تم لوگ مختلف درختوں کی شاخیں ہو! میں اور علی ایک ہی درخت سے ہیں۔ ()
138۔ حضرت امِ سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا، جب سرکارِ دوعالم ا غصہ کی حالت میں ہوتے تھے تو سوائے حضرت علی صکے کسی کی مجال نہ تھی کہ وہ آپ سے گفتگو کر سکے۔ ()
139۔ حضرت علی صفرماتے ہیں ، حضور ﷺ نے مجھے یمن کی جانب قاضی بنا کر بھیجنا چاہا تو میں نے عرض کی، میں ابھی ناتجربہ کار ہوں اور معاملات طے کرنا نہیں جانتا۔ آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مبارک مار کر فرمایا، الہٰی! اس کے قلب کو روشن فرمادے، اس کی زبان کو تاثیر عطا فرما دے۔خدا کی قسم! اس دعا کے بعد سے مجھے کبھی کسی مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے شک وتردد پیدا نہیں ہوا اور میں نے درست فیصلے کیے۔ ()
140۔ حضرت عمار بن یاسرص سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقاا نے فرمایا، دوشخص سب سے زیادہ شقی وبدبخت ہیں۔ ایک وہ جس نے صالحں کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور دوسرا وہ ہے جو تمہارے سر پر تلوار مارے گااور تمہاری داڑھی خون سے تر ہو جائے گی۔ ()
Page 52 of 134

