Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 51 of 134
پھرحضرت علی صنے فرمایا ، میرے متعلق دو آدمی ہلاک ہو جائیں گے۔ محبت میں افراط کرنے والا کہ ایسی باتیں کہے گا جو مجھ میں نہیں ہیں۔دوسرا عداوت رکھنے والا جس کو دشمنی ابھارے گی کہ مجھ پر بہتان جڑے۔ ()
121۔ حضرت سعد بن عبیدہ صسے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عمرص کے پاس آیا اور ان سے حضرت عثمان صکے متعلق پوچھنے لگا۔ آپ نے ان کے نیک اعمال بیان کر کے فرمایا، یہ باتیں تجھے بری لگی ہوں گی؟ اس نے کہا، ہاں۔آپ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ تجھے ذلیل وخوار کرے۔ پھر اس نے حضرت علی صکے متعلق سوال کیا۔آپ نے ان کی بھی خوبیاں بیان کیں اور فرمایا، وہ ایسے ہیں کہ ان کا گھر نبی کریم کے گھروں کے درمیان ہے۔پھر پوچھا، یہ باتیں بھی تجھے بری لگی ہونگی؟ اس نے کہا، ہاں۔ آپ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ تجھے ذلیل وخوار کرے۔ جا دفع ہواور مجھے نقصان پہنچانے کی جو کوشش کر سکتا ہو کر لے۔ ()
122۔ حضرت ابنِ عباس ص سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم فرمایا سوائے دروازۂ علی کے ۔ ()
123۔ حضرت علی ص نے فرمایا کہ رسول اﷲ ﷺ کی بارگاہ میں مجھے ایک قرب حاصل تھا جو کسی دوسرے کو حاصل نہ تھا۔ میں علی الصبح حاضرِ بارگاہ ہوتا اور عرض کرتا، یا نبی اﷲ! آپ پر سلام ہو ۔ اگر آپ کھنکارتے تو اپنے گھر والوں کی طرف واپس لوٹ آتا ورنہ حاضرِ خدمت ہوجاتا۔ ()
124۔ حضرت علی صسے روایت ہے کہ میں بیمار تھا تو رسول اﷲ ﷺ میرے پاس سے گزرے اس وقت میں کہہ رہا تھا،اے اللہ! اگر میری موت کا وقت آپہنچا ہے تو مجھے راحت پہنچا اور دیر ہے تو صحت بخش اور اگر آزمائش ہے تو صبر عطا فرما۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ، تم نے کیا کہا ؟ میں نے جو کہا تھا وہ دہرا دیا۔ حضور ﷺ نے پائے اقدس سے مجھے ٹھوکر ماری اور کہا ، اے اﷲ! اسے عافیت اور صحت عطا فرما۔ حضرت علی ص فرماتے ہیں، اس کے بعد وہ تکلیف مجھے پھر نہیں ہوئی۔ ()
125۔ حضرت عبداللہ بن مسعود صسے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم ا نے فرمایا، علی کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔()
126۔ سیدنا ابوبکر صدیق صسے بھی یہی روایت ہے کہ آقا ومولیٰ انے فرمایا، علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔ ()
127۔ حضرت عمران بن حُصین صسے روایت ہے کہ ایک جنگ سے واپسی پر چار افراد نے بارگاہِ رسالت میں حضرت علی صکی شکایت کی۔حضورِ اکرم اکے چہرۂ انور پر غصے کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا، تم علی سے کیا چاہتے ہو؟ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کے ولی ہیں۔ ()
128۔ حضرت اسحق بن براء صسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے بارگاہِ نبوی میں خط کے ذریعے حضرت علی صکی شکایت کی۔ اس پر نبی کریم ﷺ ناراض ہوئے اور آپ نے فرمایا، تمہارا اُس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ا سے محبت رکھتا ہے اور اللہ و رسول ا کو وہ محبوب ہے۔ ()
129۔ حضرت علی ص فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کو چکی پیسنے سے تکلیف ہوتی تھی۔وہ یہ عرض کرنے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گئیں لیکن کاشانۂ اقدس پر آپ کو نہ پایاتو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کو آنے کی وجہ بتا کر آگئیں۔جب رسول کریم ﷺ کو ام المؤمنین نے خبردی تو آقا ومولیٰ ا ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم اپنے بستروں پر لیٹے ہوئے تھے۔ میں اٹھنے لگا تو آپ نے فرمایا، اپنی اپنی جگہ رہو۔ پس آپ ہمارے درمیان رونق افروز ہوگئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے مبارک قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔آقا کریم انے فرمایا،
Share:
keyboard_arrow_up