(ب) اگر لفظ ’’انما‘‘ سے جو حصر کے لئے ہے ، حضرت علی ص کی ذات میں خلافت و امامت منحصر مان لی جائے اور خلفائے ثلاثہ کی خلافت و امامت کا انکار کر دیا جائے تو پھر حضرت علیص کے بعد آنے والے ائمہ اہلبیت کی بھی نفی ہو جائے گی اور یہ بات مخالفین کے نزدیک بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔
قاضی ثنا ء اللہ رحمہ اللہ، تفسیر مظہری میں فرماتے ہیں ، اگر اس سے مراد حضرت علیص کی ذات ہے تو بصر یوں کے قول کے مطابق ’’انما‘‘ سے حصر اضافی مرادہو گا اور وہ یہود و نصاریٰ ہوں گے جن کو خارج کیا جائے گا مومنوں کو اس سے خارج نہیں کیا جا ئے گا ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کے فرمان ’ وما محمد الا رسول‘ میں حصر اضافی مراد ہے ۔ ()
(ج)۔پس یہاں ولی بمعنی دوست اور محبوب کے ہے یا بمعنی مدد گار کے۔ جیسا کہ حدیث پاک ’’ من کنت مولا ہ فعلی مولاہ‘‘ کے تحت آگے تفصیل آئے گی۔
فضائلِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، احادیث میں:
101۔ حضرت سعد بن ابی وقاصص سے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ ا نے غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت علیص کو مدینہ میں چھوڑ دیا۔آپ نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑکر جا رہے ہیں؟حضور ﷺ نے فرمایا ،کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہو جو حضرت موسیٰ ںسے حضرت ہارونں کو تھی ماسوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ()
102۔ حضرت زربن حبیش صسے روایت ہے کہ حضرت علی ص نے فرمایا، نبی اُمی ا نے مجھ سے عہد فرمایا ہے کہ مجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اورمجھ سے بغض رکھنے والامنافق ہی ہو گا ۔ ()
103۔ حضرت سہل بن سعد ص سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ومولیٰ ا نے خیبر کے روز فرمایا ، کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اﷲ فتح دے گا، وہ اﷲ اور اس کے رسول ا سے محبت رکھتا ہے نیز اﷲ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اگلے روز صبح کے وقت ہر آدمی یہی تمنا رکھتا تھا کہ جھنڈا اسی کو دیا جائے ۔ حضوراکرم ﷺ نے فرمایا، علی ابنِ ابی طالب کہاں ہیں ؟ لوگ عرض گزار ہوئے ،یا رسول اﷲ ﷺ ! اُن کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ فرمایا، انہیں بلاؤ۔ انہیں بلایا گیا اور رسول کریم ﷺ نے ان کی آنکھوں پر لعابِ دہن لگا دیا ۔ ان کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں جیسے کوئی تکلیف ہی نہ ہوئی تھی اور انہیں جھنڈا دے دیا۔
حضرت علیص عرض گزار ہوئے، یا رسول اﷲ ﷺ ! میں اُن سے لڑوں گا یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں ۔ فرمایا، نرمی اختیا ر کرو، جب اُن کے میدان میں اتر جاؤتو انہیں اسلام کی دعوت دو اور اﷲ تعالیٰ کے جو حقوق ان پر لازم ہیں وہ انہیں بتاؤ۔ خدا کی قسم! تمہارے ذریعے اگر اﷲ تعالیٰ نے ایک آدمی کو بھی ہدایت عطا فرمادی تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ ()
104۔ ابوحازم صسے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سہل بن سعد ص سے شکایت کی کہ فلاں شخص سیدنا علیص کو منبر پر بیٹھ کر برابھلا کہتا ہے۔ انہوں نے پوچھا، وہ کہتا کیا ہے؟ جواب دیا، وہ انہیں ابوتراب کہتا ہے۔یہ ہنس پڑے اور فرمایا، خدا کی قسم!ان کا یہ نام توآقا ومولیٰ ا نے رکھا ہے اورخود حضرت علیص کو یہ نام اپنے اصل نام سے زیادہ پیارا ہے۔پس راوی نے کہا، اے ابو عباس! پورا واقعہ بتائیں۔
فرمایا، ایک دن حضرت علیص سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پھر کسی وجہ سے مسجد میں آ کر لیٹ گئے۔ آقا ومولیٰا گھر آئے توان سے دریافت فرمایا، علی کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا، وہ مسجد میں ہیں۔ حضور ﷺ مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت علی صلیٹے ہوئے ہیں، ان کی چادر ڈھلکی ہوئی ہے اور ان کی کمر مٹی سے آلودہ ہے۔ آقا کریم ا اپنے مبارک ہاتھ سے وہ مٹی جھاڑنے لگے اور آپ نے دو بار فرمایا، اے ابوترُاب اٹھو، اے ابوترُاب اٹھو۔ ()
Page 49 of 134

