حضرت براء ص سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ انے حضرت علیص سے فرمایا ، تم دعا کرو کہ الٰہی ! مجھے اپنی بارگاہِ رحمت سے عہد عطا فرما اور مجھے اپنی محبت کا مستحق بنا لے اور میری محبت مومنوں کے دلوں میں پیدا فرما دے۔ حضرت علیص نے دعا کی تو مذکورہ آیت مبارکہ ناز ل ہوئی ۔ ()
9۔ اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِکُلِّ قَوْمٍ هادٍ ۔ ()
’’ تم توڈر سنانے والے اور ہر قوم کے ہادی (ہو)‘‘۔
حضرت ابن عباس ث سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سرکار دو عالم ا نے اپنے سینۂ انور پردستِ اقدس رکھا اور فرمایا ، میں منذر یعنی ڈر سنانے والا ہوں اور پھر حضرت علیص کے کندھے پر دست مبارک رکھ کر فرمایا: ’’اَنْتَ الْھَادِی الْمُھْتَدُوْنَ مِنْ م بَعْدِیْ‘‘۔ ’’اے علی ! تو ہادی ہے اور میرے بعد راہ پانے والے تجھ سے راہ پائیں گے‘‘۔ ()
یعنی تجھ سے ولایت کے سلسلے جاری ہونگے اور امت کے تمام اولیاء کرام اور صالحین تجھ سے فیض پائیں گے۔
10۔یَا اَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ ۔()
’’اے ایمان والو!حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں‘‘۔
ابن عساکرنے حضرت ابن عباس صسے روایت کیا ہے کہ یہ آیت جماعت صحابہ کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جن میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر ، حضرت علی وغیرہ ث بھی تھے۔ جب انہوں نے عہد کیا کہ دنیا ترک کر کے رہبانیت اختیار کر لیں، ٹاٹ کا لباس پہنیں، گوشت و روغن نہ کھائیں ، ہمیشہ روزہ رکھیں صرف بقدر ضرورت کھائیں ،عورتوں کے پاس نہ جائیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اعتدال کاراستہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ()
11۔ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ الله وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَهمْ رٰکِعُوْنَ ()
’’تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اللہ کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں‘‘
طبرانی نے اوسط میں حضرت عمار بن یاسرص سے روایت کی ہے کہ حضرت علیص کے پاس ایک سائل آیا جبکہ آپ نفل نماز کے رکوع میں تھے۔ آپ نے حالتِ رکوع میں اپنی انگوٹھی اتار کر سائل کو دے دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس کی سند میں بعض راوی مجہول ہیں ۔
حضرت ابن عباسص سے دوسری روایت میں ہے کہ یہ آیت حضرت علی شیر خدا صکے بارے میں نازل ہوئی ۔ ایسی بعض اسناد کا ذکر کر کے قاضی ثنا اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، یہ وہ شواہد ہیں جن میں بعض بعض کو قوت پہنچاتے ہیں ۔ ()
امام محمد باقرص نے فرمایا ، یہ آیت مومنوں کے حق میں نازل ہوئی ۔ آپ سے عرض کی گئی ، کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علیص کے حق میں نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا ، حضرت علیص بھی تو مومنوں میں شامل ہیں۔ ()
شیعہ حضرات اس آیت سے حضرت علیص کی خلافتِ بلا فصل کا دعوٰ ی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں ولی کا مفہوم مسلمانوں کے امور میں تصرف کرنا ہے اس لئے حضرت علیص کی خلافت و امامت ثابت ہوئی اور چونکہ ’’انما ‘‘کلمۂ حصر ہے اس لئے ان کے سوا خلفا ئے ثلاثہ کی خلافت کی نفی ثابت ہوئی۔
علما ء اہلسنت اس کے جواب میں فرماتے ہیں :
(ا)یہاں ولی کا مطلب خلیفہ نہیں ہو سکتا ، اس کی دو وجوہ ہیں اول یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو بھی ولی فرمایا اور وہ کسی کے خلیفہ نہیں ۔ نیز ایک لفظ بیک وقت متعدد معا نی میں استعمال نہیں ہو سکتا ۔ دوم یہ کہ اس آیت کے نزول کے وقت حضرت علیص خلیفہ نہیں تھے ۔ اگر اس آیت میں حضور ﷺ کے بعد کا زمانہ مراد لیا جائے تو پھر حضرت علیص کی خلافت بلا فصل ثابت نہیں ہوتی ۔ تین خلفاء کے بعدکا زمانہ بھی حضور ﷺ ہی کا زمانہ کہلائے گا ۔
Page 48 of 134

