یہ واقعہ تفسیر کبیر ، تفسیرروح البیان ، تفسیر خازن ، تفسیر بغوی اور تفسیر بیضاوی میں بھی ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ ایک روایت میں یہ حصہ زائد ہے کہ تینوں دن ایثار کرنے پر حضرت جبرائیل ںحاضر ہوئے اور عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ !اللہ آپ کے اہلبیت کے بارے میں مبارک باد دیتا ہے ۔اور پھر یہ آیات تلاوت کیں۔
4۔ ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ ()
’’ یہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب (کے بارے) میں جھگڑے ‘‘۔
ان فریقوں میں سے ایک مومنوں کا ہے اور دوسرا کافروں کا۔ بخاری و مسلم میں سیدنا ابو ذر ص سے مروی ہے، یہ آیت حضرت علی، حضرت حمزہ ، حضرت عبید ہ ثاور ان سے مقابلہ کرنے والے کافروں عتبہ ،شیبہ اور ولید کے بارے میں نازل ہوئی ۔
علامہ بغوی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت علیص نے فرمایا،کفار سے جھگڑا کرنے کے سبب قیامت کے دن رحمت الٰہی کے سامنے سب سے پہلے دو زانو ہو کے بیٹھنے والا میں ہی ہوں گا۔ ()
5۔اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّ عَلاَنِیَۃً فَلَہُمْ اَجْرُهمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَاهمْ یَحْزَنُوْنَ()
’’وہ جو مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں ،چھپے اور ظاہر، اُن کے لئے اُن کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے ، اُن کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم‘‘۔
حضرت ابن عباسصسے روایت ہے کہ یہ آیت حضرت علی شیر خداص کے حق میں نازل ہوئی ہے۔()
آپ ہی سے مروی دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف صنے کثیر دینار اصحاب صفہ کی طرف بھیجے اور حضرت علی ص نے رات کے اندھیرے میں ایک وسق (تقریباًچھ من) کھجوریں بھیجیں تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی ۔ دن اور اعلانیہ طریقے سے عبدالرحمٰن بن عوفص ، رات اور مخفی طریقے سے حضرت علی صکا صدقہ مراد ہے۔()
6۔ وَ نَزَ عْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِ ھِمْ مِنْ غِلٍّ ۔ ()
’’اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے ، (جنت میں)اُن کے نیچے نہریں بہیں گی۔ اور کہیں گے ،سب خوبیا ں اللہ کو جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی ‘‘۔
حضرت علی صنے فرمایا کہ یہ آیت ہم اہلِ بدر کے حق میں نازل ہوئی اور یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ، مجھے امید ہے کہ میں ، عثمان ، طلحہ اور زبیرث اُن میں سے ہیں جن کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ ()
صدرُ الافاضل رحمہ اللہ اس کے بعد فرماتے ہیں ،’’حضرت علیص کے اِس ارشاد نے رفض کی بیخ و بنیا د کا قلع قمع کر دیا‘‘۔ ()
7۔ اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِناً کَمَنْ کَانَ فَاسِقاً لاَ یَسْتَوٗنَ ۔ ()
’’تو کیا جو ایمان والا ہے ،اُس جیسا ہو جائے گا جو بے حکم ہے، یہ برابرنہیں ہیں‘‘۔
حضرت ابن عبا س صسے روایت ہے کہ حضرت علیص اور ولید بن عقبہ کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو گیا ۔ اس کافر نے حضرت علی صسے کہا، تم خاموش رہوکیونکہ تم بچے ہو جبکہ میں تم سے زیادہ زبان دراز اور بہادر ہوں ۔ حضرت علی صنے جواب میں فرمایا ، خاموش ہو جا کیو نکہ تو فا سق ہے ۔ اس پرآپ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ ()
8۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرّٰحْمٰنُ وُدَّا ۔
’’ بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے عنقریب ان کے لئے رحمٰن (لوگوں کے دلوں میں)محبت پیدا کر دے گا‘‘۔()
طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس ص سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت علی شیر خدا صکے بارے میں نازل ہوئی کہ رب تعالیٰ ان کی محبت تمام مومنوں کے دلوں میں اور ساری کائنات میں پیدا فرما دے گا۔()
Page 47 of 134

