عرض کیا ، وفاکیا ہے ؟ فرمایا ، توحید اور توحید کی شہادت دینا ۔ عرض کیا ، فساد کیا ہے ؟ فرمایا ، کفر و شرک ۔ عرض کیا، حق کیا ہے؟ فرمایا، اسلام ، قرآن و حدیث جب تجھے ملے ، عرض کیا، حیلہ(یعنی تدبیر)کیا ہے؟ فرمایا ، ترکِ حیلہ ۔ عرض کیا ، مجھ پر کیا لازم ہے؟ فرمایا ، اللہ اور اس کے رسول اکی اطاعت ۔ عرض کیا ، اللہ تعالیٰ سے کیسے دعا مانگوں؟ فرمایا ، صدق و یقین کے ساتھ۔ عرض کیا، کیا مانگوں ؟ فرمایا ، عاقبت۔ عرض کیا ، اپنی نجات کے لئے کیا کروں؟ فرمایا ، حلال کھا اور سچ بول ۔ عرض کیا سرور کیا ہے؟ فرمایا،جنت ۔ عرض کیا ، راحت کیا ہے؟ فرمایا ، اللہ تعالیٰ کا دیدار ۔
جب حضرت علیص ان سوالوں سے فارغ ہوگئے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا اور رخصت نازل ہوئی ۔ سوائے حضرت علیص کے کسی اور کو اس پر عمل کرنے کا وقت نہیں ملا ۔()
ابن ابی شیبہ نے مصنف اور حاکم نے مستدرک میں حضرت علیص سے روایت کیا ہے کہ کتاب اللہ میں ایک آیت ایسی ہے کہ جس پر میرے سوا کسی نے عمل نہیں کیا ۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے دس درہم لئے میں جب بھی حضور ﷺ سے مناجات کرتا تو ایک درھم صدقہ کرتا۔()
2۔ اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِالله وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجَاهدَ فِیْ سَبِیْلِ الله لاَ یَسْتَوٗنَ عِنْدَ الله۔ ()
’’تو کیا تم نے حاجیوں کی سبیل اور مسجد حرام کی خدمت اس کے برابر ٹھہرائی جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا ،وہ اللہ کے نزدیک برابرنہیں‘‘۔
اس آیت کریمہ میں حضرت علی ص کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے جب طلحہ بن شیبہ نے فخریہ کہا،میں بیت اللہ کا خادم ہوں اور اس کی چابیاں میرے پاس ہیں ۔ حضرت عباس صنے فرمایا، میں حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کرتا ہوں ۔ ان کے یہ فخریہ جملے سن کر حضرت علیص نے فرمایا ، مجھے معلوم نہیں کہ تم کس بات پر فخر کر رہے ہو جبکہ میں چھ سال سے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہا ہوں یعنی تم لوگوں سے پہلے میں نے اسلام قبول کیا تھا اور میں مجاہد ہوں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔()
3۔یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیۡرًا (۷) وَ یُطْعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا (۸) اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ الله لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا (۹)()
’’ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی (یعنی شدت اور سختی) پھیلی ہوئی ہے۔ اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اَسیر کو۔ اُن سے کہتے ہیں، ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتے ہیں ، تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے‘‘۔
حضرت ابن عباس صسے روایت ہے کہ یہ آیت حضرت علی مرتضیٰ ص کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔ ()
صدرُ الافاضل لکھتے ہیں ،یہ آیات حضرت علی مرتضیٰ ، حضرت فاطمہ اور ان کی کنیز فضہ کے حق میں نازل ہوئیں ۔ حسنین کریمین ثبیمار ہوئے۔ ان حضرات نے ان کی صحت پر تین روزوں کی نذر مانی، اللہ تعالیٰ نے صحت دی۔نذر پور ی کرنے کے لئے انہوں نے روزے رکھے ۔ ایک یہودی سے تین صاع لے کر آئے ۔
حضرت خاتون جنت نے ایک ایک صاع تینوں دن پکایا لیکن جب افطار کا وقت آیا تو ایک روز ایک مسکین ، ایک روز ایک یتیم اور ایک روز ایک اسیر آیااور تینوں روز یہ سب روٹیا ں ان لوگوں کو دے دی گئیں اور تینوں دن پانی سے روزہ افطار فرمایا اورپانی ہی سے رکھا گیا۔()
Page 46 of 134

