جب ان چھ ارکان کا اجلاس ہوا تو مجھے خیال آیا کہ اب خلافت کا بار میرے کندھوں پر رکھ دیا جائے گا اور یہ مجلس میرے برابر کسی دوسرے کو حیثیت نہیں دے گی اور مجھے ہی خلیفہ منتخب کرے گی۔وہاں عبدالرحمن بن عوفص نے ہم سب سے عہد لیا کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے جس کو خلیفہ بنا دے ،ہم سب ا س کی اطاعت کریں گے اور اس کے احکام برضا ورغبت بجا لائیں گے۔
اس کے بعد انہوں نے حضرت عثمان ص کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ میں نے سوچا کہ میری اطاعت میری بیعت پر غالب آگئی اور مجھ سے جو وعدہ لیا گیا وہ اصل میں دوسرے کی بیعت کے لیے تھا۔ بہرحال میں نے حضرت عثمان صکے ہاتھ پر بیعت کر لی اور پہلے خلفاء کی طرح ان کی اطاعت کی، ان کے حقوق ادا کیے، ان کی قیادت میں جنگیں لڑیں، ان کے عطیات کو قبول کیا اور مجرموں کو شرعی سزائیں بھی دیں۔
پھر حضرت عثمان صکی شہادت کے بعد مجھے خیال ہوا کہ وہ دونوں خلیفہ جن سے میں نے لفظ بالصلوٰۃ کے ساتھ بیعت کی تھی، وہ وصال فرما چکے اور جن کے لیے مجھ سے وعدہ لیا گیا تھا وہ بھی رخصت ہو گئے لہٰذا یہ سوچ کر میں نے بیعت لینا شروع کردی چنانچہ مجھ سے مکہ ومدینہ اور بصرہ وکوفہ کے لوگوں نے بیعت کر لی۔ اب خلافت کے لیے میرے مقابل وہ شخص کھڑا ہوا ہے (یعنی امیر معاویہ ص) جو قرابت، علم اور سبقتِ اسلام میں میرے برابر نہیں اس لیے میں ہر طرح اس شخص کے مقابلے میں خلافت کا زیادہ حق دار ہوں۔()
حضرت علی صکے اس تفصیلی ارشادِ گرامی سے واضح ہو گیا کہ حضور ﷺ نے اپنے بعد خلافت کے لیے اُنہیں نامزد نہیں فرمایا تھا اورنہ ہی ان سے کسی قسم کا وعدہ فرمایا تھا۔ اسی لیے آپ نے خلفائے ثلاثہ کی بیعت واطاعت کی اور کبھی ان کی مخالفت نہیں کی۔
’’آپ کے دورِ خلافت میں جو فسادات یا جھگڑے ہوئے وہ آپ کے استحقاقِ خلافت پر نہیں تھے بلکہ وہ ایک اجتہادی غلطی تھی جس میں حضرت عثمان صکے قاتلوں کی سزا میں جلدی کا مطالبہ تھا‘‘۔()
(اس کے متعلق آئندہ صفحات میں گفتگو کی جائے گی)حضرت علیص سے کسی نے پوچھا، کیا وجہ ہے کہ پہلے تینوں خلفاء کا دورِ خلافت بڑے انتظام سے گزرا اور کسی گوشے سے اختلاف و مخالفت نہیں ہوئی مگر آپ کے دورِ خلافت میں ہر طرف انتشار اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا، اُن کے دورِ خلافت میں ہم ان کے معاون تھے اور ہمارے دورِ خلافت کے معاون تم ہو۔ ()
۱۷ یا ۱۹ رمضان المبارک ۴۰ ھ کی صبح حضرت علیص نماز فجر پڑھانے کے لیے گھر سے نکلے ۔ راستے میں آپ لوگوں کو نماز کے لیے آواز دے کر جگاتے جارہے تھے کہ اچانک ابنِ ملجم خارجی سامنے آگیا اور اس نے تلوار کا وار کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔ آپ نے فرمایا، فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃ۔ ’’ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا‘‘۔دو دن بقیدِ حیات رہ کر ۱۹ یا ۲۱ رمضان کو آپ کی روح بارگاہِ قدس میں پرواز کر گئی۔()
فضائلِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ،قرآن میں:
1۔یَآاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَۃً ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاَطْہَرُ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ()
’’اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور بہت ستھرا ہے، پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔
سید عالم اکی بارگاہ میں جب اغنیاء نے عرض و معروض کاسلسلہ دراز کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فقراء کو اپنی عرض پیش کرنے کا موقع کم ملنے لگا تو عرض پیش کرنے والوں کو عرض پیش کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم دیا گیا ۔ اس حکم پر حضرت علی مرتضیٰص نے عمل کیا اور ایک دینار صدقہ کر کے دس مسائل دریافت کئے ۔
Page 45 of 134

