حضرت حسن صسے روایت ہے کہ جب حضرت علی صبصرہ تشریف لائے تو ابن الکواء اور قیس بن عبادہ رضی ا للہ عنہما نے کھڑے ہو کر دریافت کیا، بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے آپ سے وعدہ فرمایا تھا کہ میرے بعد تم خلیفہ ہو گے، یہ بات کہاں تک سچ ہے؟ آپ نے فرمایا،
یہ بات بالکل غلط ہے۔ جب میں نے سب سے پہلے حضور ﷺ کی نبوت کی تصدیق کی تو اب آپ پر جھوٹ کیوں تراشوں؟ اگر حضور ﷺ نے مجھ سے اس قسم کا کوئی وعدہ کیا ہوتاتو میں حضرت ابوبکر وحضرت عمررضی ا للہ عنہما کو منبر پر کیوں کھڑا ہونے دیتا، میں اُن دونوں کو قتل کر ڈالتا خواہ میرا ساتھ دینے والا کوئی بھی نہ ہوتا۔
یہ سب جانتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی وفات اچانک نہیں ہوئی بلکہ آپ چند روز بیمار رہے اور جب آپ کی بیماری نے شدت اختیار کی اور مؤذن نے حسبِ معمول آپ کو نماز پڑھانے کے لیے بلایا تو آپ نے حضرت ابوبکرص کو نماز پڑھانے کا حکم دیا اور انہوں نے نماز پڑھائی اور حضور ﷺ نے مشاہدہ فرمایا۔اس عرصہ میں ایک بار آپ کی ایک زوجہ مطہرہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے حضرت ابوبکرص کے لیے اس ارادے سے باز رکھنا چاہا تو حضور ﷺ کو غصہ آیا اور آپ نے فرمایا، تم تو یوسف کے زمانے کی عورتیں ہو! جاؤ ابوبکر ہی کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔
جب حضور ﷺ کا وصال ہوا اور ہم نے اپنے معاملات میں(یعنی خلافت کے متعلق) غور کیا تو اسی شخص کو اپنی دنیا کے لیے اختیار کر لیا جس کو آقا ومولیٰا نے ہمارے دین (امامت) کے لیے منتخب فرمایا تھا کیونکہ حضور ﷺ دین ودنیا دونوں کے قائم رکھنے والے تھے۔لہٰذا ہم سب نے حضرت ابوبکر صسے بیعت کر لی اور سچی بات یہی ہے کہ آپ اس کے اہل تھے اسی لیے کسی نے آپ کی خلافت میں اختلاف نہیں کیااور نہ کسی نے روگردانی کی۔میں نے بھی اسی بناء پر آپ کا حق ادا کیا اور آپ کی اطاعت کی۔آپ کے لشکر میں شریک ہو کر کافروں سے جنگ کی، مالِ غنیمت اور بیت المال سے آپ نے جودیا وہ بخوشی قبول کر لیا، اور جہاں کہیں آپ نے مجھے جنگ کے لیے بھیجا ، میں گیا اور دل کھول کر لڑا یہاں تک کہ ان کے حکم سے شرعی سزائیں بھی دیں۔
جب آپ کا وصال ہوگیا اور حضرت عمرص خلیفہ بنائے گئے اور وہ خلیفۂ اول کے بہترین جانشین اور سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہوئے تو ہم نے ان کے ہاتھ پر بھی بیعت کی۔حضرت عمرص کو خلیفہ بنانے پر بھی کسی شخص نے اختلاف نہیں کیا، نہ کسی نے روگردانی کی اور نہ ہی کوئی شخص ان کی خلافت سے بیزار ہوا۔پہلے کی طرح میں نے حضرت عمر صکے بھی حقوق ادا کیے اور ان کی مکمل اطاعت کی۔ جو کچھ انہوں نے مجھے دیا وہ میں نے لیا۔ انہوں نے مجھے جنگوں میں بھیجا جہاں میں نے دشمنوں سے مقابلے کیے اور ان کے عہد میں بھی اپنے کوڑوں سے مجرموں کو سزا دی۔
جب ان کے وصال کا وقت قریب آیا تو میں نے حضور ﷺ کے ساتھ اپنی قرابت، اسلام لانے میں اپنی سبقت، اپنے اعمال اور اپنی بعض دیگر فضیلتوں پر غور کیا تو مجھے خیال ہوا کہ حضرت عمرص میری خلافت میں اعتراض نہیں کریں گے لیکن شاید حضرت عمرص کو یہ خوف ہوا کہ وہ کہیں ایسا خلیفہ نامزد نہ کر دیں جس کے اعمال کا خود اُنہیں قبر میں جواب دینا پڑے۔ اس خیال کے پیش نظر انہوں نے اپنی اولاد کو بھی نظرانداز کر دیا اور اسے خلافت کے لیے نامزد نہیں فرمایا۔ اگر حضرت عمرص خود کسی کو خلیفہ بناتے تو لازمی طور پر اپنے بیٹے کو خلیفہ بناتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ خلیفہ کا انتخاب چھ قریشیوں پر چھوڑ دیا جن میں ایک میں بھی تھا۔
Page 44 of 134

