100۔ حضرت انس صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺکوہِ اُحد پر تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان ثبھی تھے تو اُحد پہاڑ ہلنے لگا۔ آقا ومولیٰ انے اسے ٹھوکر لگا کر فرمایا، ٹھہر جا اُحد! تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ ()
مذکورہ اکثر احادیث خصوصاًآخر الذکر حدیث مبارکہ نبی کریم ﷺ کے علمِ غیب کی وسعت پر روشن دلائل میں سے ہے۔ بات بات پر بخاری کے حوالے طلب کرنے والوں کو صحیح بخاری میں ایسی احادیث کیوں نظر نہیں آتیں؟ رب تعالیٰ تعصب سے بچائے اور اپنے محبوب رسول ا کی عظمت کو دل سے ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ا۔
زاہدِ مسجدِ احمدی پر درود
دولتِ جیشِ عُسرت پہ لاکھوں سلام
یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہُدیٰ
حلّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام
اصلِ نسلِ صفا، وجہِ وصلِ خدا
بابِ فصلِ ولایت پہ لاکھوں سلام
شیرِ شمشیر زن، شاہِ خیبر شکن
پرتو دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام
خلیفۂ چہارم سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ
حضرت علی ص بچپن ہی میں اسلام لائے۔بعض صحابہ کے نزدیک سب سے پہلے آپ ہی نے اسلام قبول کیا۔ آپ رسول کریم ﷺکے چچا حضرت ابوطالب کے فرزند ہیں۔ آقا ومولیٰ انے بچپن ہی میں آپ کی پرورش اپنے ذمہ لے لی تھی۔حضور ﷺ نے اپنی چھوٹی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کیا۔
علم کی قوت،ارادے کی پختگی،استقلال اور شجاعت وبہادری میں آپ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ جتنی احادیث حضرت علی صکی فضیلت میں وارد ہیں، کسی اور کی فضیلت میں نہیں آئیں۔
آپ سے نبی کریم ﷺ کی ایک سو چھیاسی احادیث مروی ہیں۔آپ سے پوچھا گیا، کیا سبب ہے کہ آپ زیادہ احادیث روایت کرتے ہیں؟ فرمایا، اس کا سبب یہ ہے کہ جب کبھی میں حضور ﷺ سے کچھ دریافت کرتا تو آپ مجھے خوب اچھی طرح سمجھایا کرتے اور جب میں خود سے کچھ نہیں پوچھتا تو آپ خود ہی بتایا کرتے تھے۔
آپ تمام غزوات میں سوائے غزوۂ تبوک کے نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہے اور شجاعت وبہادری کے خوب جوہر دکھائے۔ غزوۂ تبوک میں آقا ومولیٰ انے آپ کو اپنا نائب بنا کر مدینہ منورہ میں چھوڑ دیا تھا۔
جنگِ خیبر میں آپ نے اپنی پشت پر خیبر کا دروازہ اٹھا لیا اور مسلمان اس دروازے پر چڑھ کر قلعہ کے اندر داخل ہو گئے ، بعد ازاں آپ نے وہ دروازہ پھینک دیا۔ فتح کے بعد جب اس دروازے کو گھسیٹ کر دوسری جگہ ڈالا جانے لگا تو چالیس افراد نے مل کر اسے اٹھایاتھا۔جنگ خیبر ہی کے موقع پر آپ نے یہ شعر پڑھا جو بہت مشہور ہوا،
اَنَا الَّذِیْ سَمَّتْنِیْ اُمِّیْ حَیْدَرَہٗ
کَلَیْثٍ غَابَاتٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَہٗ
’’میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام ’’شیر‘‘ رکھا ہے، میری صورت جنگل میں رہنے والے شیر کی طرح خوفناک ہے‘‘۔
حضرت ابن عباس صسے روایت ہے کہ حضرت علی صمیں اٹھارہ ایسی صفات ہیں جو کسی اور صحابی میں نہیں ہیں۔جس جگہ قرآن کریم میں یَآاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا آیا ہے وہاں یہ سمجھنا چاہیے کہ حضرت علیص ان ایمان والوں کے امیر وشریف ہیں۔
حضرت علی ص فرماتے ہیں کہ جس دن میری آنکھوں میں آقا ومولیٰ ا نے اپنا لعابِ دہنِ اقدس لگایا تھا اور عَلَم عطا فرمایا تھا،اُس دن سے نہ میری آنکھیں دُکھنے آئیں اور نہ میرے سر میں درد ہوا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ص فرماتے ہیں کہ ہم لوگ آپس میں کہا کرتے تھے کہ ہم اہلِ مدینہ میں حضرت علی صسب سے زیادہ معاملہ فہم ہیں۔ جلیل القدر تابعی حضرت مسروق صکہتے ہیں کہ صحابہ کرام کا علم اب حضرت علی، حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عمر ث تک محدود رہ گیا ہے۔
Page 43 of 134

