فرمایا، میں تمہیں اﷲ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ میں نے لشکرِ تبوک کا بندوبست اپنے مال سے کیا تھا؟ لوگوں نے کہا، یہ بات ہم جانتے ہیں۔
فرمایا، میں تمہیں اﷲ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں ،کیا تم جانتے ہو کہ رسول کریم ﷺ مکہ مکرمہ کے کوہِ ثبیر پر تھے ۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور میں تھا۔ پہاڑ ہلنے لگا یہاں تک کہ پتھر لڑھکنے لگے تو آپ نے پیر سے ٹھوکر مار کر فرمایا، اے ثبیر! ٹھہر جا کیونکہ تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔
لوگوں نے کہا، یہی بات ہے۔ آپ نے تکبیر کہی اور تین مرتبہ فرمایا، ربِ کعبہ کی قسم! لوگوں نے گواہی دے دی کہ میں شہید ہوں۔()
96۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقاو مولیٰا نے فرمایا، اے عثمان ! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص (یعنی خلافت) پہنائے گا۔ اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم نہ اتارنا۔()
97۔ حضرت ابن عمر صسے روایت ہے کہ رسولُ اﷲا نے ایک فتنے کاذکر کیا اور حضرت عثمان صکے متعلق فرمایا کہ یہ اس فتنے میں مظلوم ہونگے اور شہید کر دیے جائیں گے۔()
98۔ عثمان بن موہب صسے روایت ہے کہ ایک آدمی مصر سے حج کے لیے آیا۔ اس نے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے دیکھ کر پوچھا، یہ کون ہیں؟ کسی نے بتایا، یہ قریش ہیں۔ پوچھا، ان میں سردار کون ہے؟ بتایاگیا، عبداللہ بن عمرص۔ کہنے لگا، اے ابنِ عمر! ایک بات بتائیے۔کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت عثمان ص غزوۂ احد سے فرار ہو ئے تھے؟ آپ نے فرمایا، ہاں۔پھر کہا، کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان ص غزوۂ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا، ہاں۔ پھر کہا، کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان صنے بیعتِ رضوان نہ کی اور غائب رہے۔فرمایا،ہاں۔ تو اس مصری نے اللہ اکبر کہا۔
حضرت ابن عمر صنے فرمایا، میں ان واقعات کی حقیقت بیان کرتا ہوں۔
انہوں نے غزوۂ احد سے راہِ فرار اختیار کی تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا اور انہیں بخش دیا۔
اُن کا غزوۂ بدر میں شریک نہ ہونا اس وجہ سے تھا کہ رسول کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ان کے نکاح میں تھیں اور وہ اس وقت بیمار تھیں۔تو رسول کریم ﷺنے خودان سے فرمایا تھاکہ تمہیں بدر میں شریک ہونے والوں کے برابر اجر اور حصہ ملے گا۔
رہا اُن کا بیعت رضوان سے غائب ہونا تو یہ بات جان لو کہ اگر اہلِ مکہ کے نزدیک حضرت عثمان صسے بڑھ کر کوئی دوسرا معزز ہوتا تو رسول کریم ﷺان کی بجائے اسے مکہ بھیجتے۔اور بیعتِ رضوان کا واقعہ تو ان کے مکہ جانے کے بعد پیش آیا۔
چنانچہ آقا ومولیٰ انے اپنے دائیں ہاتھ کے لیے فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور پھر اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا، یہ عثمان کی بیعت ہے۔
پھر حضرت ابن عمر صنے فرمایا، اب جا اور ان بیانات کو بھی ساتھ لیتا جا۔()
99۔ حضرت ابو بکرہ ص سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اﷲ ﷺ کی بارگاہ میں عرض گزار ہوا، میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک ترازو آسمان سے اتری۔ پس آپ کو اور حضرت ابوبکرص کو تولا گیا تو آپ وزنی رہے۔پھر حضرت ابوبکرص اور حضرت عمرص کو تولا گیا تو حضرت ابوبکر ص وزنی رہے۔ پھر حضرت عمرص اور حضرت عثمان ص کو تولا گیا تو حضرت عمر ص وزنی رہے پھر ترازو اٹھالی گئی۔
رسول اﷲا کو اس کا صدمہ ہوا اور فرمایا، یہ خلافتِ نبوت ہے پھر اﷲ تعالیٰ اپنا ملک جس کو چاہے دے۔()
چنانچہ مخبرِ صادق ا کے ارشادگرامی کے مطابق سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ث بالترتیب خلیفہ ہوئے۔
Page 42 of 134

