88۔ حضرت طلحہ بن عبیداﷲص اور حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ رسول اکرم نورِ مجسم ا نے فرمایا ، ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ہے۔ ()
89۔ حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ، میرے صحابہ میں مجھ سے مشابہ عثمان ہیں۔ ()
90۔ حضرت عبدالرحمٰن بن خباب ص سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ لشکر تبوک کے لیے رغبت دلا رہے تھے۔
حضرت عثمان ص کھڑے ہوکر عرض گزار ہوئے، یارسول اﷲ ﷺ ! سو اونٹ اﷲ کی راہ میں جھولوں اور کجاووں سمیت میرے ذمے۔
پھر آپ نے لشکر کے متعلق ترغیب دی تو حضرت عثمان ص کھڑے ہو کر عرض گزار ہوئے،اﷲ کی راہ میں دو سو اونٹ جھولوں اور کجاووں سمیت میرے ذمے۔
پھر آپ نے لشکر کے متعلق ترغیب دی تو حضرت عثمان صکھڑے ہو کر عرض گزار ہوئے، اﷲ کی راہ میں تین سو اونٹ جھولوں اور کجاووں سمیت میرے ذمے۔
پس میں نے رسولُ اﷲا کو دیکھا کہ منبر سے اتر آئے اور فرما رہے تھے، اس کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں وہ گناہ نہیں۔ اس کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں اس کا کوئی گناہ نہیں۔()
91۔ حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ ص نے فرمایا کہ حضرت عثمان ص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ایک ہزار دینار اپنی آستین میں لے کر حاضر ہوئے جب کہ لشکرِ تبوک کا بندوبست کیا جارہا تھا اور وہ حضور کی گود میں ڈال دیے۔ پس میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ انہیں اپنی گود میں الٹ پلٹ رہے تھے اور دو مرتبہ آپ نے فرمایا،آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں وہ انہیں نقصان نہیں دے گا۔()
92۔ حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم ا نے فرمایا، اے عثمان! یہ جبریل ہیں جو مجھے بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری بیٹی رقیہ کے مہر کے مثل پر میری دوسری بیٹی ام کلثوم کو بھی تیری زوجیت میں دیا ہے اس لیے اس کے ساتھ بھی ویسا ہی حسنِ سلوک کرنا۔()
93۔ حضرت علی صسے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا جو آپ حضرت عثمان صسے( ان کی زوجہ اور نبی کریم ﷺ کی دوسری بیٹی حضرت اُم کلثوم رضی اللہ عنہاکے انتقال پر) فرمارہے تھے کہ اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں تو بھی میں یکے بعد دیگرے اُن سب کا نکاح تم سے کردیتا۔()
94۔ حضرت مُرَّہ بن کعب ص سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے عنقریب واقع ہونے والے فتنوں کا ذکر سنا ۔ پس ایک آدمی کپڑے سے سر کو ڈھانپے ہوئے گزرا تو فرمایا، یہ اُس روز ہدایت پر ہوں گے ۔ میں نے جاکر دیکھاتو وہ حضرت عثمان تھے۔ پس انہیں آپ کے روبرو کرکے عرض کی کہ یہ ؟ فرمایا ، ہاں۔()
امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
95۔ حضرت ثمامہ بن حزن قشیری صسے روایت ہے کہ حضرت عثمان ص نے اوپرسے جھانکتے ہوئے (بلوائیوں سے)فرمایا، میں تمہیں اﷲ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اﷲا مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو بئرِ رومہ کے سوا میٹھے پانی کا کوئی کنواں نہ تھا۔حضور ﷺ نے فرمایا ، کون ہے جو بئرِ رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے، اُس نعمت کے بدلے جو جنت میں اس سے بہتر ہے۔ پس میں نے اسے اپنے مال سے خریدا اور آج تم مجھے اس کے پانی سے روکے ہوئے ہو۔ لوگوں نے کہا ،یہ بات ہم جانتے ہیں۔
فرمایا ،میں تمہیں اﷲ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ مسجدِ نبوی نمازیوں کے لیے تنگ تھی تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، کہ کون ہے جو آلِ فلاں کے قطعہ زمین کو خرید کر مسجد میں داخل کردے، اس نعمت کے بدلے جو جنت میں اس سے بہتر ہے۔ پس میں نے اسے اپنے مال سے خریدا اور آج تم مجھے اس میں دو رکعتیں پڑھنے سے بھی روکتے ہو۔ لوگوں نے کہا، یہ بات ہم جانتے ہیں۔
Page 41 of 134

