Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 40 of 134
جب اس بات کی خبر سیدنا عثمان ص کو ہوئی تو آپ نے پورا باغ دے کر اس کے عوض منافق سے وہ درخت خرید لیا اور انصاری کو دے دیا۔ اس پر آپ کی شان میں اوراُس منافق کی مذمت میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشٰی وَیَتَجَنَّبُھَا الْاَشْقَی الَّذِیْ یَصْلَی النَّارَ الْکُبْرٰی۔ ()
’’عنقریب نصیحت مانے گا جو ڈرتا ہے اور اس سے وہ بڑا بدبخت دور رہے گا جو سب سے بڑی آگ میں جائے گا‘‘۔()
فضائلِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ، احادیث میں:
81۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے زمانے میں کسی کو حضرت ابوبکرص کے برابر نہیں سمجھتے تھے۔ پھر حضرت عمرص کو اور پھر حضرت عثمان صکو فضیلت دیتے اورپھر دیگر اصحاب پر کسی کو فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ()
82۔ سرکارِ دوعالم انے فرمایا، جو رومہ کنوئیں کو خریدے، اس کے لیے جنت ہے، اسے حضرت عثمان ص نے خریدا اور مزید کھدوایا۔ نبی کریم ﷺ نے تبوک کے موقع پر فرمایا، جو تنگی والے لشکر کا سامان مہیا کردے اس کے لیے جنت ہے تو سیدنا عثمان ص نے سامان فراہم کر دیا۔()
83۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری ص فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے باغ کے دروازے کا خیال رکھنے کے لیے فرمایا۔ پس ایک صاحب آئے تو میں نے حضور ﷺ سے اجازت مانگی۔ غیب بتانے والے آقا انے فرمایا، انہیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت دو۔وہ صاحب حضرت ابوبکرص تھے۔ پھر ایک صاحب آئے اور اجازت مانگی تو حضور ﷺ نے فرمایا،انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی بشارت دو۔ وہ صاحب حضرت عمرص تھے۔
پھر ایک اور صاحب نے اجازت مانگی تو حضور ﷺ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا، انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی بشارت دو لیکن ایک مصیبت کے ساتھ جو انہیں پہنچے گی۔وہ حضرت عثمان ص تھے۔()
84۔ صحیح مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس پرسیدنا عثمان صنے کہا،’’ اے اللہ ! اُس مصیبت پر مجھے صبر عطا فرما‘‘۔()
85۔ حضرت انس ص نے فرمایا کہ جب رسولُ اﷲا نے بیعتِ رضوان کے لیے حکم فرمایا تو حضرت عثمان ص کو رسول کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ بھیجا ہوا تھا۔ پس صحابہ نے بیعت کی۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک عثمان، اﷲ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ آپ نے اپنے ایک دستِ اقدس کو دوسرے پر رکھ کران کی طرف سے بیعت کی۔ پس حضرت عثمان ص کے لیے رسول اﷲ ﷺ کا دستِ مبارک لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے بہتر رہا۔()
86۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲا اپنے کاشانہ اقدس میں لیٹے ہوئے تھے اور آپ کی پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں پس حضرت ابوبکر صنے اجازت مانگی اور آپ نے انہیں اجازت دے دی اور آپ اسی حالت میں رہے۔ پھر حضرت عمرص نے اجازت طلب کی تو انہیں بھی اجازت دے دی اور اسی حالت میں رہے اور انہوں نے گفتگو کی۔ پھر حضرت عثمان صنے اجازت طلب کی تو رسول کریم ﷺ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کرلیے۔
جب وہ چلے گئے تو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہانے عرض کی ، حضرت ابو بکرص حاضر ہوئے تو آپ نے ان کی کوئی پرواہ نہ کی۔ پھر حضرت عمر صحاضر ہوئے تو آپ نے ان کی بھی کوئی پرواہ نہ کی۔ پھر حضرت عثمان ص حاضر ہوئے تو آپ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست فرمالیے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔()
87۔ دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا، عثمان صبہت زیادہ حیا والے ہیں لہٰذا مجھے خدشہ تھا کہ اگرمیں نے انہیں ایسی حالت میں اجازت دے دی تو وہ مجھ سے اپنی حاجت بیان نہیں کر سکیں گے۔()
Share:
keyboard_arrow_up