Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 39 of 134
3۔ حضرت ابن عباس ص سے روایت ہے رسول کریم ﷺنے فرمایا’ ’ جو شخص بئر رومہ خرید کر راہ خدا میں دے گا ،اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا‘‘۔سیدنا عثمان صنے اسے خرید لیا تو سرکا ر نے فرمایا:’’کیا تمہاری نیت یہ ہے کہ اسے لوگوں کی سیرابی کا ذریعہ بناؤ ؟عرض کی ، ہاں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان صکے حق میں یہ آیات نازل فرمائیں۔
یَآ اَیَّتُھَاالنَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۔()
’’اے اطمینان والی جان !اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی، پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری طرف جنت میں آ‘‘۔
علامہ ابن کثیر نے بھی حضرت ابن عباسث کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان ذوالنورین صکے بارے میں نازل ہوئی ۔()
4۔ وَضَرَبَ اللہ مَثَلاً رَّجُلَیْنِ ۔۔۔۔۔ وَھُوَ عَلیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٌ۔()
’’اور اللہ نے کہا وت بیان فرمائی ، دو مرد (ہیں جن میں )ایک گونگا جو کچھ کام نہیں کر سکتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے، جدھر بھیجے کچھ بھلائی نہ لائے ۔کیا برابر ہو جائے گا یہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے ‘ ‘۔
ابن جریر رحمہ اللہنے ابن عباس صسے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان ص اور ان کے غلام اسید کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ غلا م اسلام کو نا پسند کرتا تھا اورسیدنا عثمان صکو صدقہ اور نیکی سے منع کرتا تھا۔()
5۔مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللہ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّنْتَظِرْ ۔()
’’مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا جو عہد اللہ سے کیا تھا تو ان میں سے کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے‘‘۔
یہ آیت حضرت عثمان اور ان جلیل القدر صحابہث کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے رب تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں جہاد کا موقع ملا تو ہم ثابت قدم رہیں گے اور انہوں نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ۔ حضرت حمزہ و مصعب شھید ہو گئے اور حضرت عثمان و طلحہ ث شہادت کا انتظار کر رہے ہیں۔()
6۔ لَقَدْ رَضِیَ اللہ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحاً قَرِیْباً()
’’ بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمھاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو اُن کے دلوں میں ہے تو اُن پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا ‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں حدیبیہ میں نبی کریم ﷺ سے بیعت کرنے والوں کو رضائے الٰہی، سکون و اطمینان اور فتح و نصرت کی بشارت دی گئی ۔ بیعت رضوان اور اس سے متعلق آیات کے نزول کا سبب حضرت عثمان ذوالنورینص کی شہادت کی افوا ہ تھی جب وہ حضور اکرم ﷺ کے سفیر بن کر مکہ مکرمہ گئے اور انہیں کافروں نے روک لیا ۔ اس پر آقا و مولیٰ ا نے صحابہ سے کفار کے مقابل جہا د میں ثابت قدم رہنے پر بیعت لی۔
علامہ اسماعیل حقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک منافق کا درخت تھا جو اس کے انصاری پڑوسی کے مکان پر جھکا ہوا تھا اس لئے اس کا پھل اس انصاری کے مکان میں گرتاتھا۔ انصاری نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو حضور ﷺ نے اس منافق سے (جس کا نفاق ابھی ظاہر نہ ہوا تھا) فرمایا،تم وہ درخت انصاری کو بیچ دو ،اس کے عوض تمہیں جنت کا درخت ملے گا۔ اس منافق نے انکار کر دیا۔
Share:
keyboard_arrow_up