نیچے حضرت عثمان صتلاوت فرما رہے تھے اور ان کے پاس صرف ان کی اہلیہ تھیں۔محمد بن ابوبکر صنے قریب پہنچ کر حضرت عثمان ص کی داڑھی مبارک پکڑ لی تو سیدنا عثمان ص نے فرمایا،’’ اگر تیرے والد ابوبکرص تجھے یہ حرکت کرتے دیکھتے تو وہ کیا کہتے‘‘۔ یہ سن کر انہوں نے آپ کی داڑھی چھوڑ دی اور نادم ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن دوسرے دو بلوائیوں نے آگے بڑھ کر سیدنا عثمان ص کو شہید کر دیا۔اس دوران آپ کی زوجہ محترمہ نے بہت چیخ وپکار کی لیکن بلوائیوں کا شور اس قدر تھا کہ کوئی ان کی آواز نہ سن سکا۔پھر وہ چھت پر گئیں اور لوگوں کو بتایا کہ امیر المؤمنین شہید کر دیے گئے۔
حضرت علی ص سب سے پہلے وہاں پہنچے اور اپنے فرزندوں پر غصہ ہوئے کہ تمہارے ہوتے ہوئے امیرالمؤمنین کس طرح شہید ہوئے۔ غصہ سے آپ نے ایک طمانچہ حضرت حسن کے اور ایک گھونسہ حضرت حسین کے سینے پر مارا۔ محمد بن طلحہ اور عبداللہ بن زبیر ث کو بھی برابھلا کہا ۔ پھر حضرت عثمان صکی اہلیہ سے قاتلوں کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے بتایا، میں انہیں تو نہیں جانتی مگر ان کے ساتھ محمد بن ابوبکر صتھے۔
اب حضرت علی ص نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا، میں قتل کے ارادے سے داخل ضرور ہوا تھا مگر جب انہوں نے میرے والد حضرت ابوبکر ص کا ذکر کر دیا تو میں انہیں چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔ میں اپنے اس فعل پر نادم ہوں اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں۔ خدا کی قسم ! میں نے نہ ان کو پکڑا اور نہ ہی قتل کیا۔حضرت عثمان ص کو کسی مصری نے شہید کیا تھا۔
۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ کو جمعہ کا دن تھا۔ حضرت عثمان صنے خواب میں دیکھا کہ حضور ﷺ اور سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما تشریف فرما ہیں اور حضور ﷺ فرما رہے ہیں، ’’عثمان! جلدی کرو۔ آج تم ہمارے ساتھ افطار کرنا۔‘‘ اسی دن آپ شہید کیے گئے۔
آپ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ آپ کے باغی کم وبیش دوہزار تھے اور آپ کے حامی کئی ہزار۔آپ نے چالیس روز محاصرہ میں رہنا،بھوک اور پیاس برداشت کرنا اور جام شہادت نوش کرنا قبول کر لیا مگر اپنی ایک جان کی خاطریا اپنی حکومت کی خاطر کسی کلمہ گو کا خون بہانا گوارہ نہ کیا۔()
فضائلِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ، قرآن میں :
1۔اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنَّا وَّلَآ اَذًی لَّھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔()
”وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دینے کے بعدنہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم ‘‘۔
حضرت عثمان ص نے غزوۂ تبوک میں ایک ہزار اونٹ مع سامان کے بارگاہِ نبوی میں پیش کئے تو یہ آیت نازل ہوئی ۔()
2۔اَمَّنْ ھُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَائِماً یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَۃَ رَبِّہٖ قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔()
’’ کیا وہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیا ں گزریں سجود میں اور قیام میں، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے ، کیا وہ نافرمانوں جیسا ہو جائے گا؟ تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان (ہر گز نہیں)‘‘۔
حضرت ابن عباس صسے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر ص اور حضرت عمرص کی شان میں نازل ہوئی اور حضرت ابن عمر صسے روایت ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان ذوالنورین ص کے حق میں نازل ہوئی ۔()
Page 38 of 134

