Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 37 of 134
بلوائیوں نے حضرت عثمان ص سے خلافت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیاجس کے جواب میں آپ نے فرمایا، میرے آقاومولیٰا نے مجھ سے فرمایا تھا، ’’اے عثمان ! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا یعنی خلافت عطا کرے گا۔ اگر لوگ اسے اُتارنا چاہیں تو تم نہ اُتارنا‘‘۔ پس میں اپنے آقا کریم ا کے حکم کے خلاف نہیں کر سکتا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ،’’ بیشک حضور ﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا اور میں اس پر صابر ہوں‘‘۔()
آپ کے انکار پر محاصرہ اور سخت کر دیا گیا جوکہ مسلسل چالیس دن تک قائم رہا یہاں تک کہ آپ پر پانی بھی بند کر دیا۔ایک دن حضرت عثمان صنے اوپر سے جھانک کر مجمع سے پوچھا،کیا تم میں علی ہیں؟ لوگوں نے کہا، نہیں۔ پھر پوچھا، کیا تم میں سعد ہیں؟ جواب ملا، نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا، کوئی شخص علی ص کو یہ خبر پہنچا دے کہ وہ ہمارے لیے پانی مہیا کردیں۔یہ خبر سیدنا علی ص تک پہنچی تو آپ نے پانی سے بھرے ہوئے تین مشکیزے بھجوا دیے لیکن یہ پانی ان تک سخت کوشش کے بعد پہنچا اور اس دوران بنوہاشم اور بنو امیہ کے چند لوگ زخمی بھی ہوگئے۔ اس بات سے حضرت علی صکو اندازہ ہوگیا کہ بلوائی حضرت عثمان صکو قتل کرنے کے درپے ہیں۔ اکابر صحابہ نے بلوائیوں کو سمجھانے کے لیے متعدد تقریریں کیں مگر اُن پر کوئی اثر نہ ہوا۔
حضرت علی ص نے اپنے صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ تلواریں لیکر حضرت عثمان صکے دروازے پر چوکس کھڑے رہو اور خبردار! کسی بلوائی کو ہرگز اندر نہ جانے دینا۔اسی طرح حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور دیگر اکابر صحابہ ث نے اپنے اپنے بیٹوں کو ان کی حفاظت کا حکم دیا اور یہ سب نہایت مستعدی سے مسلسل ان کی حفاظت کرتے رہے۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ ص سے روایت ہے کہ میں نے محاصرہ کے دوران حضرت عثمان ص سے عرض کی،آپ امیرالمؤمنین ہیں۔ میری تین باتوں میں سے ایک ضرور مان لیجیے۔ اول یہ کہ آپ حق پر ہیں اور وہ باطل پر نیز یہاں آپ کے حامیوں کی عظیم جماعت موجود ہے۔آپ حکم دیجیے کہ ان باغیوں کو مقابلہ کر کے نکال دیں۔دوم یہ کہ آپ پچھلی طرف سے نکل کر مکہ مکرمہ چلے جائیے۔وہاں حرم کعبہ کی وجہ سے یہ لوگ آپ پر حملہ نہیں کریں گے۔ سوم یہ کہ آپ ملک شام چلے جائیے وہاں امیر معاویہ ص اور ان کی فوج موجود ہے۔ حضرت عثمان ص نے جواب میں فرمایا، رسول اللہ ا کا خلیفہ ہو کر میرے لیے یہ ناممکن ہے کہ میں اپنی حکومت کی بقا کے لیے مسلمانوں کی خونریزی کراؤں۔ دوسری بات کا جواب یہ ہے کہ مکہ معظمہ جانا مجھے اس لیے پسند نہیں کہ ان لوگوں سے یہ توقع نہیں کہ یہ حرمِ مکہ کی حرمت کا کوئی لحاظ کریں گے اس لیے میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے اس مقدس شہر کی حرمت پامال ہو۔ اور تیسری صورت کا جواب یہ ہے کہ میں اپنی ہجرت کے مقام اور رسول کریم ﷺ کے محبوب شہر کوچھوڑ کر کہیں نہیں جانا چاہتا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر، زید بن ثابت انصاری ، حضرت ابوہریرہ اور کئی صحابہ ث نے باغیوں سے لڑنے کی اجازت مانگی مگر آپ نے سب کو منع کیا اور فرمایا،’’ اللہ کی قسم ! خونریزی سے پہلے قتل ہوجانا مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں خونریزی کے بعد قتل کیا جاؤں‘‘۔مطلب یہ ہے کہ جب آقا ومولیٰ ا نے مجھے شہادت کی بشارت دے دی ہے تو اگر تم جنگ بھی کرو گے تو مجھے قتل ہونے سے نہیں بچا سکو گے۔
مسلسل سخت پہرہ دیکھ کر آخرکار بلوائیوں نے دور ہی سے حضرت عثمان ص پر تیر چلائے۔ایک تیر لگنے سے حضرت حسن ص زخمی ہوگئے، حضرت علی ص کے ایک غلام کے علاوہ محمد بن طلحہ ص بھی زخمی ہوئے۔اس پر محمد بن ابوبکر ص کو یہ خوف ہوا کہ اگر بنو ہاشم نے حضرت حسن ص کو زخمی دیکھ لیا تو وہ بگڑ جائیں گے۔ لہٰذا وہ دو بلوائیوں کے ساتھ ایک انصاری کے مکان میں داخل ہوئے اور وہاں سے دیوار پھاند کر حضرت عثمان صکے گھر میں پہنچ گئے۔یوں باہر اور چھت پر موجود لوگوں کو خبر نہ ہوئی۔
Share:
keyboard_arrow_up