آپ کے دورِ خلافت میں بھی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ ملک روم کا وسیع علاقہ، قبرص، افریقہ ،اندلس( اسپین ) اور ایران کے کئی علاقے فتح ہوئے۔ خاص بات یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ صنے پہلے اسلامی بحری بیڑے کے ذریعے قبرص پر حملہ کر کے اسے فتح کیا۔ ()
حضرت عثمان صکی خلافت کے ابتدائی چھ سالوں میں لوگوں کو آپ سے کوئی شکایت نہیں ہوئی البتہ بعد ازاں بعض گورنروں کی وجہ سے لوگوں کو شکایات ہوئیں۔ دراصل مسلمانوں کی عظیم سلطنت کو نقصان پہنچانے کے لیے یہودی روز بروز سازشوں میں مصروف تھے چنانچہ ان کے ایجنٹ عبداللہ بن سبا نے مذکورہ شکایات کو بنیاد بنا کر حضرت عثمان صکے خلاف ایک مذموم پراپیگنڈا مہم شروع کردی۔ وہ اور اس کے ساتھی جگہ جگہ حضرت عثمان ص کی ناانصافی اورا قرباپروری کی داستانیں مشہور کرنے لگے۔معاملہ اس وقت سنگین ہو گیا جب اہلِ مصر نے اپنے گورنر ابن ابی سرح کے خلاف شکایات کیں اور آپ نے اسے بذریعہ خط سخت تنبیہہ فرمائی ۔ لیکن گورنر مصر نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی بلکہ جو مصری لوگ شکایات لے کر مدینہ منورہ آئے تھے،ا نہیں قتل کرا دیا۔ اس طرح حالات مزید خراب ہوئے۔
چنانچہ تاریخِ طبری کے مطابق بصرہ، کوفہ اور مصر سے تقریباً دوہزار فتنہ پرداز افراد حاجیوں کی وضع میں مدینہ شریف پہنچ گئے ،ان کے عزائم اچھے نہ تھے۔ مصریوں نے گورنر کو معزول کرنے کا مطالبہ کیا۔آپ نے فرمایا، تم کوئی اور شخص بتاؤ، میں اسے گورنر مقرر کردوں گا۔ مصری وفد نے کہا، محمد بن ابوبکر ص کو مقرر فرما دیجیے۔ چنانچہ آپ نے ابن ابی سرح کی معزولی اور ان کی تقرری کافرمان جاری کردیا ۔ محمد بن ابوبکر ص بھی کچھ صحابہ کے ہمراہ قافلے کی صورت میں مصر روانہ ہوئے۔
راستے میں ایک حبشی غلام سانڈنی پر سوار تیزی سے اس قافلے کے پاس سے گزرا تو انہیں اس پر شک ہوا کہ کسی کا قاصد ہے یا کوئی مفرور ہے۔ اسے پکڑ کر پوچھا، تو کون ہے؟ بولا، میں امیر المومنین کا غلام ہوں، پھر کہنے لگا، میں مروان کا غلام ہوں۔پوچھا، تجھے کہاں بھیجا ہے؟ بولا، عاملِ مصر کے پاس خط دے کر بھیجا ہے۔ تلاشی لینے پر خط برآمد ہو گیا۔ اس میں گورنر کے نام یہ تحریر تھا،
’’ جس وقت تمہارے پاس محمد بن ابوبکر اور فلاں فلاں لوگ پہنچیں تو تم کسی حیلے سے انہیں قتل کر دو اور اس فرمان کو کالعدم قرار دو اور حسبِ سابق اپنا کام جاری رکھو‘‘۔خط پر امیرالمومنین کی مہر ثبت تھی۔ یہ پڑھ کر سب دنگ رہ گئے۔ مدینہ منورہ واپس آکر اکابر صحابہ کو جمع کر کے یہ خط پڑھوایا گیا۔ اس پر سب لوگ برہم ہوئے۔ محمد بن ابوبکر ، ان کے قبیلہ بنو تمیم اورباغیوں نے حضرت عثمان ص کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔
یہ صورتحال دیکھ کرحضرت علیص اکابر صحابہ ث کے ہمراہ حضرت عثمان ص کے پاس تشریف لے گئے اور دریافت کیا، یہ غلام آپ کا ہے؟ فرمایا، ہاں ۔پھر پوچھا، کیا یہ اونٹنی بھی آپ کی ہے؟ فرمایا، ہاں۔ پھر آپ نے وہ خط پیش کر کے کہا،کیا یہ خط آپ نے لکھا ہے؟سیدنا عثمان صنے فرمایا، نہیں۔خدا کی قسم ! نہ میں نے یہ خط لکھا، نہ کسی کو لکھنے کا حکم دیااور نہ اس کے متعلق مجھے کچھ معلوم ہے۔اس پر حضرت علی صنے فرمایا، تعجب کی بات ہے کہ غلام آپ کا، اونٹنی آپ کی، مہر بھی آپ کی مگر آپ کو کوئی علم نہیں۔آپ نے پھر قسم کھائی کہ مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں۔اس پر صحابہ کو یقین ہو گیا کہ آپ اس سازش سے بری ہیں۔
بعد میں کچھ لوگوں نے غور کر کے پہچانا کہ یہ تحریر مروان کی ہے۔ چونکہ وہ آپ ہی کے پاس مقیم تھا اس لیے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ مروان کو ہمارے حوالے کریں مگر آپ نے انکار فرما دیا کیونکہ لوگ غیظ وغضب میں بھرے ہوئے تھے اس لیے آپ کو یہ اندیشہ تھا کہ وہ مروان کو قتل کر دیں گے۔ نیزچونکہ ایک تحریر دوسری تحریر کے مشابہہ ہو سکتی ہے اور شبہ کا فائدہ ملزم کو پہنچتا ہے اس لیے آپ نے مروان کو ان کے سپرد نہیں کیا۔
Page 36 of 134

